.

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں پانچ لاکھ بچے ’فوری خطرے‘ سے دوچار: یونیسف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں پانچ لاکھ بچے متحارب جنگجو ملیشیاؤں کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں خطرے سے دوچار ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحت حقوقِ اطفال کے ادارے یونیسیف نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹے کے دوران میں طرابلس کے جنوب میں لڑائی میں شدت کے بعد سے مزید بارہ سو سے زیادہ خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ طرابلس اور اس کے نواحی علاقوں میں اگست سے جاری مسلح جھڑپوں کے نتیجےمیں پچیس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ان میں نصف تعداد بچوں کی ہے۔

اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کے مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا میں ڈائریکٹر گیرٹ کیپلائر نے کہا ہے کہ ’’ مزید بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کیا جارہا ہے جس سے وہ فوری خطرے سے دوچار ہوچکے ہیں اور لڑائی میں شریک ایک بچہ مارا بھی جاچکا ہے‘‘۔

لیبیا کی وزارت صحت کے ہفتے کی شب فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق طرابلس اور اس کے نواحی علاقے میں گذشتہ ایک ماہ سے متحارب جنگجو دھڑوں کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں 115 افراد ہلاک اور کم سے کم 400 زخمی ہوچکے ہیں۔لڑائی سے متاثرہ علاقوں سے بے گھر ہونے والے افراد کو ا سکولوں میں عارضی طور پر ٹھہرایا جارہا ہے جس کے پیش نظر 3 اکتوبر سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ممکن نظر نہیں آرہا ہے اور اس میں تاخیر ہوجائے گی۔

یونیسف کے مطابق لڑائی سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو خوراک ، بجلی اور پانی کی قلت کا سامنا ہے۔لڑائی میں شدت سے تارکین ِ وطن کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔کیپلائر کا کہنا تھا کہ ’’ سیکڑوں گرفتار پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو تشدد کی وجہ سے زبردستی دوسری جگہوں پر منتقل کیا جارہا ہے۔ان کے علاوہ بہت سے تارکین ِ وطن ایسے مراکز میں پھنس کر رہ گئے ہیں ،جن کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی مصالحتی کوششوں کے نتیجے میں 4 ستمبر کو متحارب ملیشیاؤں کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی لیکن گذشتہ ہفتے طرابلس کے جنوبی علاقوں میں ترہونہ اور مصراتہ سے تعلق رکھنےو الی ملیشیاؤں اور طرابلس میں لیبیا کی قومی حکومت کے تحت ملیشیا میں دوبارہ لڑائی چھڑ گئی تھی۔