.

ٹرمپ انتظامیہ کا سرکاری امداد لینے والے تارکینِ وطن کے گرین کارڈز بندکرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے خوراک ، طبی علاج و معالجے اور مکانوں کی سہولت کی شکل میں سرکاری امداد حاصل کرنے والے تارکین ِ وطن کو گرین کارڈز کا اجراء بند کرنے پر غور شروع کردیا ہے اورا س مقصد کے لیے نئے قواعد وضوابط تجویز کردیے ہیں۔

امریکا کے وفاقی قانون کے تحت گرین کارڈ کے حصول کے خواہاں افراد کو پہلے ہی یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ قومی خزانے پرکوئی بوجھ ثابت نہیں ہوں گے۔نئے قواعد کے تحت کسی بھی شکل میں سرکاری امداد حاصل کرنے والے گرین کارڈ کے نااہل قرار پائیں گے۔

امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق ’’مجوزہ قواعد وضوابط کے تحت پہلے سے موجود قانون میں بالکل صراحت کردی جائے گی کہ جو لوگ بھی امریکا میں آنے اور یہاں عارضی یا مستقل طور پر رہنے کے خواہاں ہیں ، انھیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ مالی طور پر خود اپنی امداد کرسکتے ہیں، اپنے اخراجات برداشت کرسکتے اور ان کا سرکاری فوائد پر انحصار نہیں ہوگا‘‘۔

447 صفحات کو محیط ان مجوزہ قواعد وضوابط کو محکمے کی ویب سائٹ پر شائع کردیا گیا ہے اور آیندہ ہفتوں میں یہ وفاقی رجسٹر پر بھی نمودار ہوجائیں گے۔اس کے بعد 60 دن تک لوگ ان پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں گے۔پھر یہ نافذ العمل ہوجائیں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے یہ تجویز ملک میں وسطی مدت کے انتخابات سے صرف سات ہفتے قبل پیش کی ہے ۔اس سے ری پبلکن پارٹی کو صدر ٹرمپ کے قانونی یا غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے حامی ووٹروں کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب تارکینِ وطن کے حامی ایڈووکیسی گروپوں کا کہنا ہے کہ لوگ مکانوں سے بے دخلی اور خرابیِ صحت کے مسائل سے دوچار ہونے کے خطرے کے باوجود سرکاری امدادی پروگراموں سے دستبردار ہوجائیں گے کیونکہ اگر وہ ان امدادی پروگراموں سے استفادے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو انھیں امریکی ویزا جاری کرنے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔

تارکین وطن جن امدادی پروگراموں سے استفادے کی بنا پر ویزے کے نااہل ہوسکتے ہیں ،ان میں طبی نگہداشت کے پارٹ ڈی میں بیان کردہ ادویہ ، بعض ہنگامی سروسز کے لیے خدمات، تعلیم ، فوڈ اسٹیمپ اور سیکشن 8 کے تحت ہاؤسنگ واؤچرز شامل ہیں۔

امریکا میں مقیم تارکین ِوطن کے حامی گروپوں نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے تحت امریکا میں اب صرف امیر لوگ ہی رہ سکتے ہیں یا یہاں آ سکتے ہیں اور غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن پر اس ملک کے دروازے بند کیے جارہے ہیں۔