.

بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں یورپی شہریوں کے ساتھ "مہاجرین" جیسا معاملہ ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کے بعد مملکتِ متحدہ میں یونین کے رکن ممالک کے شہریوں پر بھی کام کے لیے آنے والے دیگر مہاجرین کی طرح قوانین اور ضوابط کا اطلاق ہو گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے "بی بی سی" نے غیر مذکور ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹریزا مے کی حکومت نے پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں متفقہ طور پر ایک نظام کی تائید کی ہے جو شہریت کے بجائے مہارت پر مبنی ہو گا۔

برطانوی اخبارات "ٹائمز" اور "گارڈین" میں بھی یہ ہی بتایا گیا ہے۔

یورپی یونین کے شہریوں کو اس وقت برطانیہ میں قیام اور کام کی آزادی حاصل ہے۔ تاہم برطانیہ کے یورپی یونین سے خارج ہونے کے حوالے سے لندن اور برسلز کے درمیان معاہدے کی صورت میں بریگزٹ کے بعد عبوری عرصے کے دسمبر 2020ء میں اختتام پذیر ہونے پر یہ صورت حال باقی نہیں رہے گی۔

یہ فیصلہ ہجرت کے حوالے سے مشاورتی کمیٹی کی ہدایت پر عمل میں آ رہا ہے۔ کمیٹی نے پیر کے روز ایک اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں ہجرت کا ایک ایسا نظام وضع کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو ہجرت کے معاملے کو بریگزٹ مذاکرات میں شامل کیے جانے تک یورپی اکنامک ایریا ((EEA کے ممالک کے شہریوں کو کوئی ترجیح نہ دے۔

اجلاس کے اختتام پر برطانوی حکومت کی ترجمان نے بتایا کہ "حکومت اس بات پر متفق ہو گئی ہے کہ مملکتِ متحدہ میں نقل و حرکت کی آزادی پر روک لگانے کے بعد وہ ایک نئے نظام کا سہارا لینے میں کامیاب ہو سکے گی جو ملکی مفاد کے کام آئے"۔

وزیراعظم ٹریزا مے ہجرت کے حوالے سے اپنے منصوبوں کو اتوار کے روز برمنگھم میں اپنی کنزرویٹو پارٹی کی کانفرنس کے دوران پیش کریں گی۔ یہ کانفرنس چار روز جاری رہے گی۔

البتہ بریگزٹ کے بعد کوئی بھی امیگریشن پالیسی مستقبل میں برطانیہ کی طرف سے کیے جانے والے تجارتی معاہدوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ٹریزا مے نے گزشتہ ہفتے وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بریگزٹ کے حوالے سے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں بھی حالیہ طور پر برطانیہ میں مقیم یورپی شہریوں کے حقوق محفوظ رہیں گے۔