.

دھمکیوں کے سائے میں امریکی ٹیکس کے حوالے سے مذاکرات ممکن نہیں: چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کا کہنا ہے کہ ایسے میں جب کہ اس کی "گردن پر تلوار لٹک رہی ہے" ،،، امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں۔ بیجنگ کا یہ موقف، چین سے امریکا جانے والی سالانہ 200 ارب ڈالر کی مصنوعات پر نیا ٹیکس نافذ العمل ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

چین کے نائب وزیر تجارت وانگ شوئن نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ "امریکا نے بڑے پیمانے پر نئی تجارتی پابندیوں کا راستہ اپنا لیا ہے۔ ایسے میں مذاکرات کس طرح کیے جا سکتے ہیں جب کہ ہماری گردن پر اس طرح تلوار لٹک رہی ہو؟ اس دُہرے پن کے ماحول میں مذاکرات اور مشاورت ہر گز نہیں ہو گی"۔

امریکا میں چین سے درآمد کی جانے والی 200 ارب ڈالر کی اشیاء پر 10% ٹیکس لاگو ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی نمو کے لیے خطرات میں اضافہ ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس ٹیکس کو پیر کے روز عائد کیا۔ توقع ہے کہ چین فوری جواب کے طور پر امریکا سے ہر سال درآمد کی جانے والی 60 ارب ڈالر کی مصنوعات پر 5 یا 10% ٹیکس عائد کر دے گا۔

دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ شدّت اختیار کرتی جا رہی ہے۔