.

سعودی عرب نے ایران میں حالیہ واقعات سے متعلق جھوٹے الزامات مسترد کردیے

ایران بین اقوامی قوانین اور اقدار کا احترام کرے ، دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت بند کردے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک سینیر عہدہ دار نے ایران میں گذشتہ ہفتے کے روز رونما ہونے والے واقعات سے متعلق ایرانی حکا م کے جھوٹے الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے اور انھیں افسوس ناک قرار دیا ہے۔

اس سینیر عہدہ دار نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت سعودی عرب کی دوسرے ممالک کے داخلی امور میں عدم مداخلت سے متعلق پالیسی بڑی واضح ہے ۔وہ مملکت کے داخلی امور میں بھی دوسروں کی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔اس کے برعکس ایرانی نظام ( رجیم ) اپنے ہمسایہ ممالک کے امور میں مداخلت کرتا ہے اور خطے اور دنیا میں دہشت گردی کا ایک بڑا اسپانسر ملک ہے۔

بیان کے مطابق ایرانی رجیم نے اپنے قیام کے بعد سے افراتفری ، تباہی ، فرقہ واریت اور انتہا پسندی پھیلائی ہے،اس نے اپنے عوام کے وسائل کو اپنے جارحانہ اور غیر ذمے دارانہ کردار کی نذر کردیا ہے،اس سے خطے میں تباہی اور طوائف الملوکی کے سوا کچھ نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔

اس سینیر عہدہ دار کا کہنا تھا کہ سعودی مملکت کے نزدیک اس رجیم کے پاس دوسروں پر جھوٹے الزامات عاید کرنے اور دوسرے ممالک پر الزام تراشی کے سوا کہنے اور کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ وہ اپنے عوام کی امنگوں پر پورا اترنے میں مکمل ناکامی اور دوسری کم زوریوں کی پردہ پوشی کے لیے دوسروں پر الزام تراشی کا عادی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی رجیم نے حال ہی میں سعودی مملکت کو ایرانی معیشت کے دھڑن تختے کا مورد الزام ٹھہرایا تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی معیشت کی زبوں حالی دراصل رجیم کی اپنی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔اس نے اپنے عوام کے وسائل اور صلاحیتوں کو دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور خطے میں بیلسٹک میزائلوں کے پھیلاؤ پر ضائع کیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے سینیر عہدہ دار کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایرانی رجیم کو نیا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور وہ ایک ایسے ذمے دار ملک ایسا کردار ادا کرے جو اپنے عوام کی خوش حالی اور استحکام چاہتا ہے ۔ وہ دہشت گرد تنظیموں ، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی حمایت میں اپنے وسائل کو ضائع نہ کرے۔اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے ہمسایگی کے اصول کے مطابق معاملہ کرے، بین اقوامی قوانین اور اقدار کا احترام کرے اور دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت بند کردے۔