.

ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ میں ایرانی صدر سے ملاقات نہیں کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کےسالانہ اجلاس کے موقع پر ’’درخواستوں‘‘ کے باوجود ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات سے انکار کردیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کے روز جنرل اسمبلی سے خطاب سے چند گھنٹے قبل ہی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:’’ مستقبل میں کسی روز شاید یہ ملاقات ہو سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ایک محبت کرنے والے آدمی ہیں‘‘۔ان کااشارہ ایرانی صدر کی جانب تھا۔وہ بھی آج جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے مئی میں ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے سے دستبرداری کے فیصلے کے بعد ان دونوں لیڈروں کے درمیان کسی بین الاقوامی فورم پر یہ پہلا ٹاکرا ہوگا۔امریکی صدر نے معاہدے کے فریق تین یورپی اتحادیوں ،چین اور روس کو بھی اپنے فیصلے سے نالاں کردیا تھا کیونکہ وہ اس کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔

قبل ازیں ایرانی صدر حسن روحانی نے این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ کسی بھی مکالمے کی پیشگی شرط کے طور پر صدر ٹرمپ کو جوہری ڈیل سے علاحدگی سے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنا ہوگا اور اس خلیج کو پاٹا جانا چاہیے‘‘۔

مگر امریکا کا اصرار ہے کہ وہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ وہ ایران کو عراق ، شام ، یمن اور لبنان میں خانہ جنگیوں اور طوائف الملوکی کے بیج بونے کا مورد الزام ٹھہراتا ہے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایرانی صدر جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں 2015 ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے پر زور دیں گے او ر امریکا کو اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا نہ کرنے اور وعدے توڑنے کا مورد الزام ٹھہرائیں گے۔