.

ڈونلڈ ٹرمپ کی جنرل اسمبلی میں تقریر:دلیرانہ سعودی اصلاحات کی تحسین ، ایران پر تنقید

اب امریکی امداد صرف حقیقی دوستوں اور انھیں ملے گی جو ہمارا حترام کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب میں دلیرانہ اصلاحات پر عمل پیرا ہیں۔انھوں نے کہا کہ امریکا خلیجی عرب ممالک ، اردن اور مصر کے ساتھ مل کر ایک علاقائی تزویراتی اتحاد کے قیام کے لیے کام کررہا ہے۔

امریکی صدر نے عالمی قائدین کے سالانہ اجتماع سے خطاب میں کہا:’’ میرے سعودی عرب کے دورے کے بعد خلیجی ممالک نے دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے ایک نیا مرکز قائم کیا ہے۔وہ نئی پابندیاں عاید کررہے ہیں ، وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کا سراغ لگانے اور ان کی شناخت کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں اور اپنے خطے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے لیے مزید ذمے داریاں قبول کررہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ امریکا خلیج تعاون کونسل ، اردن اور مصر کے ساتھ مل کر ایک تزویراتی اتحاد کے قیام کے لیے کام کررہا ہے تاکہ مشرقِ اوسط کی اقوام اپنے خطے میں سلامتی اور استحکام کو آگے بڑھا سکیں‘‘ ۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ’’ اب امریکی امداد صرف دوست ممالک کو دی جائے گی۔صرف انھیں غیرملکی امداد دی جائے گی جو ہمارا احترام کرتے اور ہمارے حقیقی معنوں میں دوست ہیں۔ہم دوسرے ممالک سے بھی یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے دفاع کے لیے اپنا جائز حصہ دیں‘‘۔

انھوں نے امریکا کے روایتی حریف ملک ایران کے بارے میں سخت لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہاں ایک بدعنوان آمریت ہے جو بیرون ملک جارحیت کے لیے اپنے عوام کی دولت اینٹھ رہی ہے‘‘۔ انھوں نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عاید کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا :’’ ایران کے لیڈروں نے طوائف الملوکی ، موت اور تباہی کے بیج بوئے ہیں۔وہ اپنے ہمسایہ ممالک کا احترام نہیں کرتے ہیں ، سرحدوں یا قوموں کے خود مختاری کے حق کو بھی تسلیم نہیں کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے اپنی تقریر میں امریکا کے ایران کے ساتھ تعلقات کا شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن سے بہتر ہوتے تعلقات سے موازنہ کیا۔انھوں نے جون میں سنگاپور میں کِم جونگ سے ملاقات کی تھی اور انھیں شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے دستبردار ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے اپنے خطاب میں کِم جونگ کی انتہائی توہین کرتے ہوئے انھیں راکٹ مین قرار دیا تھا جو ان کے بہ قول جوہری بم کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔تاہم آج انھوں نے اپنی تقریر میں جوہری اور میزائل تجربات روکنے ، امریکی قیدیوں کی رہائی اور 1950ء کے عشرے میں لڑی گئی کوریا جنگ میں ہلاک شدہ امریکی فوجیوں کی باقیات کی واپسی پر کِم جونگ کی تعریف کی ہے۔