.

اقوام متحدہ ایران کو جوہری بم کے حصول سے روکے : ڈونلڈ ٹرمپ

سلامتی کونسل کے رکن ممالک ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے امریکا کا ساتھ دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دوسرے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری بم کے حصو ل سے روکنے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کریں۔

انھوں نے بدھ کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا :’’ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کبھی جوہری بم حاصل نہ کرسکے‘‘۔انھوں نے کہا کہ’’ جو کوئی بھی ایران کے خلاف امریکا کی عاید کردہ پابندیوں کی پاسداری نہیں کرے گا،اس کو سنگین مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔

صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایران کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ جولائی 2015ء میں جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے اس کی جارحیت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔انھوں نے مئی میں اس معاہدے سے امریکا کے دستبردار ہونے کے اعلان کیا تھا اور ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عاید کردی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ’’ نومبر کے اوائل سے ایران کے خلاف پابندیوں کا مکمل نفاذ کیا جائے گا اور امریکا ایران کے برے طور طریقے اور کردار کو کنٹرول کرنے کے لیے اس کے خلاف پہلےسے کہیں زیاد ہ سخت پابندیوں کا نفاذ کرے گا‘‘۔

صدر ٹرمپ ہی نے آج سلامتی کونسل کے اس اجلاس کی صدارت کی ہے کیونکہ اس ماہ امریکا ہی اپنی بار ی پر سلامتی کونسل کا صدر ملک ہے۔

انھوں نے ایران اور روس پر شامی حکومت کو ’سفاکیت ‘ کے قابل بنانے کا الزام عاید کیا ۔تاہم انھوں نے ان تینوں ممالک کا شامی باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبے ادلب پر حملہ نہ کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔

انھوں نے اجلاس میں چین پر بھی تنقید کی ہے اور کہا کہ وہ امریکا میں آیندہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کررہا ہے تاکہ ان کی جماعت ری پبلکن پارٹی کو جیتنے سے روکا جاسکے۔تاہم انھوں نے اپنے اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے اور محض یہ کہا کہ چین ان کی انتخابات میں جیت نہیں چاہتا ہے کیو نکہ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جنھوں نے چین کو تجارت پر چیلنج کیا ہے۔

امریکی صدر نے گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے ایران کے بارے میں سخت لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’وہاں ایک بدعنوان آمریت ہے جو بیرون ملک جارحیت کے لیے اپنے عوام کی دولت اینٹھ رہی ہے‘‘۔ انھوں نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عاید کرنے کی بھی دھمکی دی تھی ۔