.

فرانس : پروفیسر طارق رمضان کی جیل سے رہائی کے لیے درخواست تیسری مرتبہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں ایک عدالت نے دو غیر عورتوں سے ناجائز جنسی تعلق کے الزام میں جیل میں بند مصری نژاد سوئس پروفیسر طارق رمضان کی رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست تیسری مرتبہ مسترد کردی ہے۔

فرانس کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک ماہر نے ان کے خلاف عدالت میں نئے ثبوت پیش کیے ہیں۔اس ماہر نے پروفیسر طارق رمضان کے کمپیوٹر اور فون کا تجزیہ کیا تھا اور اس نے ان کے بیان کردہ واقعات کی تردید کی ہے جس پر عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی ہے۔

انھوں نے مبینہ طور پر خود پر الزام عاید کرنے والی دو عورتوں میں سے ایک کو ٹیکسٹ پیغامات بھیجے تھے مگر وہ اس عورت سے ناجائز جنسی تعلق سے انکاری ہیں۔مصر کی قدیم مذہبی وسیاسی اور اب کالعدم جماعت الاخوان المسلمون کے بانی رہ نما حسن البنا کے پوتے طارق رمضان 2 فروری سے دو خواتین کی عصمت ریزی کے الزام میں فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواح میں واقع فریسنس جیل میں قید ہیں۔

ان کے خلاف اگلے روز سوئٹزر لینڈ میں بھی پراسیکیوٹرز نے جنسی اخلاق باختگی اور ایک عورت سے ناجائز جنسی تعلق کے الزام کی تحقیقات شروع کردی ہے۔انھوں نے مبینہ طور پر جنیوا میں 2008ء میں ایک عورت کی عصمت ریزی کی تھی اور اس متاثرہ عورت نے واقعے کے دس سال کے بعد اپریل 2018ء میں ان کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ اس عورت کے وکیل رومین جورڈن کا کہنا تھا کہ پولیس اور پراسیکیوٹرز اس کیس پر تیزی سے اور بہتر کام کررہے ہیں۔

56 سالہ پروفیسر طارق رمضان کو فرانس کی ایک عدالت کے حکم پر فروری میں دو مسلم عورتوں کی عصمت ریزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔اس دوران میں ایک تیسری عورت نے بھی ان پر عصمت ریزی کے الزامات عاید کیے تھے لیکن وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے چلے آرہے ہیں۔ان کے خلاف فرانس کی ایک سیکولر لبرل خاتون کارکن ہند ہ عیاری نے اکتوبر 2017ء میں سب سے پہلے ایک درخواست دائر کی تھی اور ان پر جنسی حملے ، تشدد ،ہراسیت اور عصمت ریزی کے الزامات عاید کیے تھے۔