.

فلسطینیوں کو طاقت سے کچلنے سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے صدرعمانویل میکروں نے منگل کو نیویارک میں جنرل اسمبلی کے عمومی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا استعمال اور یک طرفہ اقدامات سے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب پورا نہیں کیا جا سکتا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق صدر میکروں نے استفسار کیا کہ ’کیا طاقت کے استعمال سے ہم فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن قائم کرسکتے ہیں‘۔ فلسطینیوں کو طاقت کے ذریعے کچلنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ مسئلے کا حل یک طرفہ اقدامات سے گریز، فلسطینی قوم کے آئینی حقوق کو تسلیم کرنے اور تنازع کےدو ریاستی حل کو قبول کرنے میں مضمر ہے۔ ہمارے خیال میں فلسطین، اسرائیل کشمکش کے حل کا دو ریاستی فارمولے سے بہتر اور کوئی حل قابل عمل نہیں ہوسکتا۔

ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے بات چیت کی اہمیت پرزر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے اور تہران پر سخت ترین پابندیوں کی بحالی کے بجائے معاملے کو بات چیت کے ذریعے سلجھایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2015ء کو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جو سمجھوتا طے پایا تھا اس میں ایران کو جوہری طاقت کے حصول کی حد مقرر کی گئی تھی۔

صدر میکروں نے کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مداخلت کشیدگی کا باعث ہیں مگر ان کا حل بات چیت میں ہے۔