.

ڈالر کے مقابل ایرانی کرنسی کی قدر میں مزید 6% کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ریال کی قدر میں بدھ کے روز مزید 6% کے قریب کمی واقع ہوئی اور ایک ڈالر کی قیمت 1.7 لاکھ ریال تک پہنچ گئی۔ یہ ایران کی ملکی تاریخ میں ادنی ترین سطح کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔

اس حوالے سے معروف ادارے The Institute of International Finance کا کہنا ہے کہ چار نومبر سے امریکی اقتصادی پابندیوں کا دوسرا دور شروع ہونے سے قبل ایران کی تیل کی برآمدات میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ ادارے کے مطابق غالب گمان ہے کہ ایران کی معیشت میں رواں برس 3% اور آئندہ برس 4% کا سکڑاؤ پیدا ہو گا۔

ادارے نے بتایا ہے کہ رواں سال یکم اپریل سے ستمبر تک خام تیل کی برآمدات میں یومیہ 8 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ حجم اپریل میں روزانہ 28 لاکھ بیرل تھا اور ستمبر میں اس کا یومیہ تخمینہ 20 لاکھ بیرل لگایا گیا ہے۔

ادارے کی جانب سے ایرانی معیشت کے حوالے سے یادداشت جاری کی گئی ہے۔ اس کے مطابق اگرچہ ایران اپنے مرکزی خام تیل کو بڑی رعایت پر فروخت کر رہا ہے اور چین اور بھارت کے لیے مصنوعات کی ترسیل کے لیے بنا اضافی اخراجات کے اپنے آئل ٹینکروں کو استعمال میں لا رہا ہے تاہم اس کے باوجود تیل کی برآمدات کا حجم نیچے آ رہا ہے۔

یورپی یونین نے پیر کی شام نیویارک میں ہونے والے ایک اجلاس کے اختتام پر اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے اور امریکی پابندیوں سے اجتناب کے لیے ایک متبادل نظام قائم کیا جائے گا۔ اس کا مقصد 2015ء میں دستخط ہونے والے ایرانی جوہری معاہدے سے امریکی علاحدگی کے باوجود سمجھوتے کو بچانا ہے۔ تاہم بہت سے سفارت کاروں نے اس منصوبے کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا ہے۔ مذکورہ اجلاس میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور ایران نے شرکت کی۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ یورپی اور دیگر ممالک کی جانب سے ایران پر امریکی پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے کے لیے مجوزہ طریقہ کار کسی طور کارگر ثابت نہیں ہو گا۔

ادارے کے مطابق اس طرح کا میکانزم غالبا یورپی کمپنیوں کو اس بات پر قائل کرنے میں ناکام رہے گا کہ وہ امریکی پابندیوں کے خوف سے آزاد ہو کر ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں انجام دیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات میں ناکامی غالبا ایران کی معیشت کو زیادہ بڑا نقصان پنچانے کا سبب بنے گی۔