.

جاپان میں ٹرانسپورٹ انقلاب، اڑنے والی خود کار کاروں کے روٹ کے نقشے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اڑنے والی خود کار کاروں کی تیاری اب تک صرف ایک تخیل رہا ہے مگر ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے اس خیال کو حقیقیت کے روپ میں تبدیل کرنے کے قریب پہنچا دیا ہے۔ جاپان ان ممالک میں سر فہرست ہے جو عن قریب اڑنے والی ڈرون کاریں متعارف کرانے جا رہے ہیں۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق جاپانی حکومت رواں سال اڑنے والی کاروں کے روٹ کے نقشے جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ ٹرانسپورٹ کے میدان میں ایک انقلابی پیش رفت ہے جس کے نتیجے میں سڑکوں پر ٹریفک کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملنے کے ساتھ شہریوں کو گاڑیوں کے لیے انتظار کی زحمت سے بھی بچایا جاسکے گا۔ اڑنے والی کاروں کی سہولت حاصل ہونے کے بعد کوئی بھی شخص اپنے گھر یا دفتر کی چھت سے کار کی مدد سے اپنی منزل مقصود پر روانہ ہوسکے گا۔

مشترکہ مساعی

جاپان میں اڑنے والی کاروں کی تیاری کسی ایک کمپنی کا نہیں بلکہ کئی کمپنیوں کی مشترکہ مساعی کا نتیجہ ہے۔ ڈرون کار پروجیکٹ پر کام کرنے والی کمپنیوں میں جاپان کی سب سے بڑی فضائی کمپنی All Nippon Airways، الیکٹرونیکل کمپنی NEC اور 12 دوسری کمپنیوں کے ساتھ نقشہ تیار کرنے والے ماہرین بھی کام کررہے ہیں، جو رواں سال اڑنے والی کاروں کے نقشے جاری کریں گے۔

منصوبے کی راہ میں حائل بعض رکاوٹیں

جاپانی حکومت کے ایک عہدیدار فومیاکی ابیھارا کا کہنا ہے کہ اڑنے والی کاروں کا منصوبہ ہر اعتبار سے الگ اور نیا ہے۔ اس نے جاپان کے سامنے ترقی کا ایک نیا دروازہ کھولا ہے جس میں تاخیر کی گنجائش نہیں، تاہم ابیھارا کا کہنا ہے کہ اڑنے والی کاروں کی تیاری اور اسے عملی شکل دینے میں بعض تکنیکی رکاوٹیں بھی حائل ہیں۔ مثلا اڑنے والی کاروں کی پٹیری کے اوقات، فضاء میں معلق رہنے، صارفین کی سلامتی کے ضروری اقدامات اور دیگر مسائل دور کرنے پر کام جاری ہے۔

ٹوکیو اولمپک 2020ء

جاپانی حکومت کو توقع ہے کہ وہ 2020ء میں ٹوکیو میں کھیلے جانے والے اولمپک مقابلوں میں اڑنے والی کاروں کو نمائش کے لیے پیش کریں، تاہم فی الحال یہ غیراضح ہے کہ آیا ٹوکیو اپنا یہ ہدف پورا کرسکے گا یا نہیں۔ گذشتہ برس ڈرون کاروں کا تجربہ کیا گیا تھا مگر کار تھوڑی بلندی پر جانے کے بعد گر کر تباہ ہوگئی تھی۔ تاہم اس کے بعد کے تجربات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈرون اڑن کاریں زیادہ وقت تک فضاء میں سفر کرسکتی ہیں تاہم فی الحال یہ منصوبہ تجربے کے عمل سے گذر رہا ہے۔