.

روس نے شام کو ایس 300 میزائل دفاعی نظام مہیا کرنا شروع کردیا : وزیر خارجہ لاروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ان کا ملک پہلے ہی شام کو ایس 300 میزائل دفاعی نظام مہیا کرنا شروع کرچکا ہے۔

وہ اقوام متحدہ میں ایک نیوز کانفرنس میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ یہ اقدام شام میں روسی فوج کی 100 فی صد سکیورٹی اور تحفظ کے پیش نظر کیا جارہا ہے۔

انھوں نے ترکی اور روس کے درمیان شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں باغی گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی ٹالنے سے متعلق سمجھوتے کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے ۔انھوں نے کہا کہ ’’ادلب میں موجود جہادیوں کو دوسری شورش زدہ جگہوں مثلاً افغانستان میں بھیجنے کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن یہ تجویز روس کےلیے ناقابل قبول ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ان ( جنگجوؤں) کا یا تو خاتمہ کرنا ہوگا یا پھر ان کے خلاف عدالتی کارروائی کی جانی چاہیے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو ادلب میں کوئی سادہ کا م درپیش نہیں ہے ۔اس کے علاوہ امریکا نے بھی اعتدال پسند گروپوں کو جہادی گروپوں سے الگ تھلگ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ اس میں ناکام رہا ہے۔

روس اور ترکی کے درمیان طے شدہ اس سمجھوتے کے تحت 15 اکتوبر تک ادلب میں ایک غیر فوجی علاقہ قائم کیا جائے گا جہاں سے باغی گروپ اور جہادی پیچھے ہٹ جائیں گی اور اس علاقے میں روس اور ترکی کے فوجی دستے گشت کریں گے۔اس کے علاوہ ترکی اعتدال پسند باغی گروپوں کو ان جہادی گروپوں سے الگ کرے گا جنھیں اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

واضح رہے کہ روس نے شام میں اپنے ایک فوجی طیارے کی تباہی کے ایک ہفتے کے بعد اپنے اتحادی ملک کو میزائل نظام مہیا کرنے کا ا علان کیا تھا۔یہ روسی طیارہ غلطی سے شامی فوج نے مار گرایا تھا لیکن روس نے اسرائیل کو اس کی تباہی کا بالواسطہ ذمے دار قرار دیا تھا کیونکہ اس وقت ایک اسرائیلی طیارہ بھی شامی علاقے پر حملے کے لیے فضائی علاقے میں موجود تھا جبکہ اسرائیل نے شام کو مورد الزام ٹھہرایا تھا ۔اس طیارے میں سوار تمام پندرہ روسی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

اسرائیل ایک عرصے سے روس پر یہ زور دیتا چلا آرہا ہے کہ وہ شام کو ایس 300 میزائل دفاعی نظام فروخت نہ کرے۔اس کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس کی وجہ سے اسرائیلی فوج شام میں ایران اور حزب اللہ کی فورسز کو اپنے فضائی حملوں میں نشانہ نہیں بنا سکے گی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ سوموار کو روسی صدر ولادی میر پوتین ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ ہتھیاروں کے جد ید نظام کو ’’ غیر ذمے دار کھلاڑیوں‘‘ کے حوالے کرنے سے خطے میں خطرات میں اضافہ ہوگا۔

تاہم روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے گذشتہ ہفتے واضح کیا تھا کہ ماسکو ماضی میں شام کو یہ میزائل دفاعی نظام فروخت نہ کرکے اسرائیل کو ممنون احسان کرتا رہا ہے مگر طیارے کی تباہی میں پندرہ روسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد وہ شام میں اپنی فورسز کے تحفظ کے لیے مناسب جوابی اقدامات پر مجبور ہوگیا ہے ۔