.

لیبیا کی صدارتی کونسل کی تنظیمِ نو کے لیے متحارب دھڑوں میں سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے متحارب دھڑوں کے درمیان صدارتی کونسل کی تنظیم ِ نو کے لیے ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے ۔اس کے تحت ملک کے تین صوبوں میں کونسل کی دو صدور اور تین نائب صدور نمایندگی کریں گے۔اس وقت صدارتی کونسل کے ارکان کی تعداد نو ہے۔

لیبیا کے ایک رکن پارلیمان صالح الفہیمہ نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ پارلیمان کی ڈائیلاگ کمیٹی کے درمیان اس ضمن میں اسی ہفتے ایک سمجھوتا طے پا یا ہے۔ پارلیمان وسط اکتوبر سے قبل نئی صدارتی کونسل کا انتخاب کرے گی اور نئے صدارتی عہدوں پر انتخاب علاقائی حصے داری کے متفقہ میکانزم کے تحت عمل میں لایا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ نئی صدارتی کونسل کی تشکیل کے ساتھ مجوزہ آئین پر ریفرینڈم کا انعقاد ہوگا تاکہ بعد میں اس کی بنیاد پر پارلیمانی اور صدارتی انتخابات منعقد کرائے جاسکیں ۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سال کے اختتام سے قبل ریفرینڈم اور انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں سابق صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔ اس وقت ملک میں دو حکومتیں قائم ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر حکومت کی ملک کے مغربی علاقوں میں عمل داری ہے جبکہ مشرقی علاقوں پر دوسری حکومت کی عمل داری ہے۔اس وجہ سے ان دونوں کے تحت افواج اور مسلح ملیشیاؤں کے درمیان بھی سرکاری اداروں اور وسائل پر کنٹرول کے لیے جنگ وجدل جاری ہے۔