.

ہڑتال کرنے والے 40 ایرانی ٹرک ڈرائیوروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پولیس نے گاڑیوں کے سپیئرپارٹس مہنگے کرنے، تیل کی قیمتیں بڑھانے اور مہنگائی کے خلاف ہڑتال کرنے والے 40 ٹرک ڈرائیوروں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ اطلاعات کےمطابق ایرانی حکام نے ڈرائیوروں سے کہا ہے کہ وہ احتجاج کا سلسلہ ترک کریں ورنہ انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کل جمعہ کو مسلسل چھٹے ہفتے ہڑتال کی گئی جس میں ٹرک ڈروائیوروں کے ساتھ زندگی کے دیگر شعبوں سے وابستہ شہریوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس موقع پرایرانی پراسیکیوٹرجنرل محمد جعفر منتظری نے دھمکی دی کی ہڑتال کے منتظمین کو پھانسی دی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال کرنے والے قومی سلامتی کو داؤ پر لگا رہےہیں، ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جانی چاہیے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جمعرات کو ایرانی پولیس نے ہڑتال اور احتجاج کرنے والے 40 ڈرائیوروں کو گرفتار کیا۔ یہ گرفتاریاں قزوین، فارس، تہران اور الاھواز سے کی گئیں۔

انسانی حقوق گروپ ’شھرو ندیار‘ کے مطابق 23 ستمبر سے جاری احتجاج کا دائرہ اب زوین، اردبیل، اھواز، شہر رضا، بروجرد ، ارومیہ اور ایران کے 31 اضلاع تک پھیل گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں احتجاج کی حالیہ لہر ایک ایسے وقت میں اٹھی ہے جب امریکا کی طرف سے ایران پرسخت ترین اقتصادی پابندیاں عاید کی جا رہی ہیں۔ امریکی پابندیوں کے باعث ایران میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آیا ہے۔ مقامی خبر رساں اداروں کے مطابق مہنگائی کے طوفان سے ٹرک ڈروائیور بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک بایاس ٹائر کی قیمت 19 لاکھ تومان سے بڑھ کر 20 لاکھ تومان تک جا پہنچی ہے جب کہ گاڑیوں کے دیگر اجزاء بھی مہنگے ہوگئے ہیں۔