.

یمنی حکومت کا اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم سے عدم تعاون کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی قانونی حکومت نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم سے تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس نے یہ فیصلہ اقوام متحد ہ کے تحت انسانی حقوق کونسل میں یمن کے لیے تحقیقاتی مشن کے مینڈیٹ میں توسیع کی منظوری کے بعد کیا ہے۔

یمنی حکومت نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ماہرین کے گروپ کے ساتھ نہیں تعاون کرے گی ۔اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کی حیثیت سےیہ اس کا حق ہے کہ اس کے داخلی امور میں مداخلت نہ کی جائے ۔

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین نے انسانی حقوق کونسل میں یمن کی صورت حال کے بارے میں اتفاق رائے سے قرار داد منظور نہ ہونے کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا اور کونسل کے ایجنڈے کی دسویں آئیٹم کے تحت اقدام پر زور دیا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ یمن کی قانونی حکومت اور متعلقہ ممالک کی جانب سے مفاہمتی فارمولے کے لیے تعاون کے اظہار کے باوجود انسانی حقوق کونسل ایک ایسی مشترکہ قرارداد کی منظوری میں ناکام رہی تھی جو یمن کی صورت حال سے متعلق عالمی برادری کے اتحاد کی مظہر ہوتی۔

تاہم عرب اتحادی ممالک نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر پر زور دیا ہے کہ وہ یمنی حکو مت اور یمن کی قومی کمیٹی برائے تحقیقات کی صلاحیت کار بڑھانے کے لیے ٹیکینیکل معاونت مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے۔

عرب اتحاد کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کونسل میں قرارداد کی منظوری کے وقت رکن ممالک میں تقسیم بڑی واضح تھی۔ یہ قرار داد نیدر لینڈز ، بیلجیئم ، کینیڈا ، لکسمبرگ اور آئرلینڈ نے پیش کی تھی۔

عرب اتحاد نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ عالمی اور بین الاقوامی ماہرین کی یمن کے بارے میں رپورٹ واضح طور پر سقم زدہ تھی ۔ اس میں سلامتی کونسل کی قرارداد کے منافی بہت سی باتیں موجود تھیں بلکہ یہ ان سے بالکل متصادم تھی ۔