.

اںڈونیشیا: زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 832 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انڈونیشیا میں آفات سے نمٹنے کے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ جمعے کے روز سولاویسی جزیرے میں خوف ناک زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 832 ہو گئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقہ ابتدائی اندازے سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

ادارے کے ترجمان سوتوبو بورو نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جزیرہ سولاویسی میں زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.5 تھی اور اس کے بعد آنے والے سونامی کے دوران سمندری موجوں کی بلندی 6 میٹر تک جا پہنچی۔ سونامی کی موجوں نے بالو شہر کے ساحل پر جمعے کے روز جمع ہونے والے سیکڑوں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ترجمان بورو کے مطابق حکام نے سونامی کی وارننگ جاری کر دی تھی مگر ساحل پر موجود لوگ اس کے بعد بھی اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہے اور وہاں سے راہ فرار اختیار نہ کی جس کے باعث وہ سونامی کی موجوں کا شکار بن گئے۔ بورو نے بتایا کہ یہ کوئی عام موجیں نہ تھیں بلکہ انہوں نے گاڑیوں، درختوں، گھروں اور زمین پر موجود ہر چیز کو لپیٹ میں لے لیا۔ ساحل پر پہنچنے سے قبل موجوں کی رفتار 800 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچی ہوئی تھی۔

ترجمان کے مطابق بعض لوگوں نے چھ میٹر سے زیادہ بلند درختوں پر چڑھ کر اپنی جان بچائی۔

مقامی میڈیا پر دکھائے جانے والے وڈیو کلپوں اور تصاویر میں پانی کے ریلے میں گھروں اور کارگو کنٹینروں کو بہتے ہوئے اور شہر کی ایک مسجد کو ڈوبا ہوا دکھایا گیا۔

اس دوران 16700 افراد کو نکال کر بالو شہر کے 24 مراکز پہنچایا گیا۔

ساحلی شہر بالو میں ہفتے کی دوپہر کے بعد بھی زلزلے کے آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا۔

انڈونیشیا میں Agency for the Assessment and Application of Technology نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ جمعے کے روز آنے والے زلزلے کی طاقت ،،، دوسری جنگ عظیم کے دوران ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایٹم بم کی طاقت سے تقریبا 200 گُنا زیادہ تھی۔

انڈونیشیا میں آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ترجمان سوتوبو بورو کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں گھر، ہسپتال، تجارتی مراکز، ہوٹلز اور مارکیٹ زمین بوس ہو گئیں۔ اس دوران بالو شہر آنے والے ایک مرکزی راستے پر واقع پُل بھی منہدم ہو کر پانی میں ڈوب گیا۔ حکام کو منہدم عمارتوں کے ملبے کے بیچ بھی لاشیں ملی ہیں۔ علاوہ ازیں شہر کی سڑکوں پر بھی ہلاک شدگان کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔

ٹی وی اسکرینوں پر دکھائے جانے والے مناظر میں عارضی طبّی کیمپوں میں زخمیوں کی ایک بڑی تعداد علاج حاصل کرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب صلیب احمر تنظیم نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ بالو شہر سے 300 کلو میٹر دوری پر ڈونگالا کا علاقہ زلزلے کے مرکز کے زیادہ قریب تھا تاہم وہاں سے رابطہ منقطع ہو جانے کے سبب کوئی معلومات موصول نہیں ہو سکی۔ تقریبا 3 لاکھ آبادی والے علاقے کے حوالے سے یہ صورت حال تشویش ناک ہے۔

تنظیم کے نائب سربراہ یوسف کالا کے مطابق اس قدرتی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔

انڈونیشیا میں Agency of Meteorology and Geophysics نے زلزلے کے بعد سونامی کی بلند موجوں سے خبردار کر دیا تھا تاہم یہ انتباہ 34 منٹ کے بعد جاری ہوا۔ ایجنسی کو اس حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اس نے بالو شہر سے ٹکرانے والی موجوں کے بارے میں بروقت خبردار نہیں کیا۔

انڈونیشیا میں آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق بالو شہر اس سے قبل 1927ء اور 1968ء میں سونامی کا شکار ہو چکا ہے۔