سویڈن :نوبل اکیڈمی میں عصمت ریزی اسکینڈل کے مراکزی کردار کو دو سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سویڈن کی ایک عدالت نے نوبل اکیڈمی میں جنسی ہراسیت اور عصمت ریزی کے اسکینڈل کے مرکزی کردار فرانسیسی شہری ژاں کلاڈ آرنالٹ کو قصور وار قرار دے کر دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اسٹاک ہوم کی ضلعی عدالت کے جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’’ مدعاعلیہ عصمت ریزی کا قصور وار قرار پایا گیا ہے۔اس نے 5 اور 6 اکتوبر 2011ء کی درمیانی شب اس جرم کا ارتکاب کیا تھا۔اس کو دوسال قید کی سزا کا حکم دیا جاتا ہے۔ مجروح فریق کے نقصان کا ازالہ کردیا گیا ہے‘‘۔

اسٹاک ہوم کے ایک کلچرل سنٹر کے سربراہ ژاں کلاڈ آرنالٹ کے خلاف 18 عورتوں نے جنسی حملوں اور ہراسیت کے الزامات عاید کیے تھے ۔یہ صاحب ایک معروف ثقافتی شخصیت ہیں اور سویڈن کی نوبل اکیڈمی سے وابستہ تھے۔ ایک قانونی فرم کو ان صاحب کے اکیڈمی پر اثرات کی تحقیقات کے لیے کہا گیا تھا۔عدالت نے ان میں سے ایک عورت کے الزام پر ملزم کو مجرم قرار دیا ہے۔

مسٹر کلاڈ کے خلاف گذشتہ سال عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان پر جنسی حملوں کے الزامات منظرعام پر آنے کے بعد نوبل انعام برائے ادب کے تین جج صاحبان اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ 18 ارکان پر مشتمل نوبل کمیٹی میں شامل جج صاحبان کا تاحیات تقرر کیا جاتا ہے اور فنی طور پر انھیں کمیٹی کو خیرباد کہنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔1989ء میں تین منصفین نے اکیڈمی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور انھوں نے یہ فیصلہ اکیڈمی کی جانب سے ایران کے رہبر انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کی مذمت میں بیان جاری نہ کرنے پر کیا تھا لیکن اکیڈمی نے ان کا استعفا منظور نہیں کیا تھا۔آیت اللہ خمینی نے تب توہین آمیز کتاب ’’شیطانی آیات ‘‘ کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں