یو اے ای : والدین کی رضامندی کے بغیر بچوں کی فلم مت بنائیں، ورنہ بھاری جرمانہ ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات میں والدین کی رضامندی کے بغیر بچوں کی شخصی آزادی میں خلل اندازی اب ایک بڑا جرم قرار پائے گی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عاید کیا جائے گا۔

متحدہ عرب ا مارات میں اب عوامی جگہوں پر جو کوئی شخص بھی بچوں کی ان کے والدین کی رضامندی کے بغیر اپنے اسمارٹ فون یا عام کیمرے سے ویڈیو فلم بناتے ہوئے پکڑا گیا،اس پر کم سے کم ڈیڑھ لاکھ اور زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ اماراتی درہم تک جرمانہ عاید کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ خلاف ورزی کے مرتکب شخص کو چھے ماہ تک قید کی سزا بھی سنائی جاسکتی ہے۔

اماراتی اخبار خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق نئے قانون کے تحت فلم بنانے ، تصویریں کھینچنے ، آواز اور فون کالز ریکارڈ کرنے ، پھر ان کی تشہیر کرنے یا انھیں اپنے پاس رکھنے والے افراد کو جرمانے اور قید دونوں سزاؤں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ان افعال کا مرتکب شخص امارات کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جرائم سے نمٹنے کے وفاقی قانون نمبر 5/2012ء کے تحت مستوجب سزا ہوگا۔پارکوں یا دوسرے عوامی مقامات پر بچوں کی فلم یا تصویریں بنانا ان کی شخصی آزادی کی خلاف ورزی متصور ہوگا خواہ فلم بنانے یا تصویر کھینچنے والے شخص کا ارادہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں