.

ظالمانہ عدالتی کارروائی کے بعد نوجوان ایرانی لڑکی کی سزائے موت پر عمل درامد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے منگل کی صبح ایک 24 سالہ نوجوان لڑکی زینب اسکانوند کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

تنظیم نے ایک ٹوئیٹ میں بتایا ہے کہ زینب کو جب گرفتار کیا گیا تو وہ کم عمر تھی اور اس کو عدالتی کارروائی میں انصاف نہیں مل سکا۔ تنظیم نے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے مطالبہ کیا کہ بچوں اور کم سن افراد کے خلاف سزائے موت کے فیصلوں کا اجرا روک دیا جائے۔

ایمنیسٹی میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ زون کے ڈائریکٹر ریسرچ فلپ لوتھر نے پیر کے روز ایک بیان میں ایرانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ زینب کے خلاف سزائے موت پر عمل درامد روک دیں۔ تنظیم کے مطابق یہ فیصلہ "جابرانہ عدالتی کارروائی" کا نتیجہ تھا۔

بیان میں بتایا گیا کہ جرم کے ارتکاب کے وقت زینب کی عمر 18 برس سے کم تھی۔ اسے اپنے دفاع کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنے سے بھی محروم رکھا گیا۔ علاوہ ازیں اسے جبری اعترافی بیانات کے لیے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ زینب کو فروری 2012ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ زینب پر اپنے شوہر کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ شادی کے وقت زینب کی عمر 15 برس تھی۔

تنظیم کی رپورٹ کے مطابق جرم کے ارتکاب کے بعد ملزمہ کو 20 روز تک پولیس مرکز میں زیر حراست رکھا گیا۔ یہاں مرد پولیس اہل کاروں نے اسے زدوکوب بھی کیا۔ زینب نے اعتراف کیا کہ ایک ماہ تک جسمانی اور زبانی اہانت کا نشانہ بننے کے بعد اس نے اپنے شوہر کو چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا۔ زینب کے شوہر نے کئی بار مطالبے کے باوجود اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی تھی۔

ایمنیسٹی کے نزدیک زینب کے خلاف عدالتی کارروائی "ظالمانہ" تھی اور یہ ایران میں 2013ء میں جاری تعزیرات کے ایکٹ کے بنیادی احکامات سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔

زینب کے 18 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد ایرانی عدالتوں نے اس کے مقدمے کی دوبارہ سماعت بھی نہیں کی۔ علاوہ ازیں اسے یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ تعزیرات ایکٹ کے آرٹیکل 91 کی رُو سے وہ "عدالتی کارروائی کے دوبارہ انعقاد" کی درخواست پیش کر سکتی ہے۔