.

ایرانی منصوبہ بندی کے حوالے سے فرانس کے "بھرپور" ردّ عمل پر امریکا کی ستائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا قومی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف فرانس کے "بھرپور" ردّ عمل کو سراہا ہے۔ پیرس نے فرانس میں ایرانی مفادات پر پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ایرانی وزارت انٹیلی جنس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جون میں پیرس کے نزدیک ایرانی اپوزیشن کے ایک اجتماع کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

کونسل نے ایک ٹوئیٹ میں مزید کہا ہے کہ "تہران کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس طرح کے شرم ناک برتاؤ کے ساتھ تساہل ہر گز نہیں برتا جائے گا"۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوورٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "پیرس نے جس منصوبہ بندی کا انکشاف کیا ہے، وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ایران ہی دنیا بھر میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے"۔

فرانسیسی حکام نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ انہوں نے جون میں پیرس کے نزدیک ایرانی اپوزیشن کے ایک اجتماع کے خلاف حملے کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔ اس حملے کی منصوبہ بندی ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے کی تھی۔

منگل کے روز ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے باور کرایا کہ "باریک بینی کے ساتھ طویل اور تفصیلی تحقیقات کے بعد ہمارے ادارے واضح طور پر اس نتیجے پر پہنچے کہ ایرانی اپوزیشن تنطیم مجاہدین خلق کے اجتماع کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کا ذمّے دار ایرانی وزارت انٹیلی جنس کو ٹھہرایا جائے"۔

تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا کہنا ہے کہ "ہم ایک بار پھر قوت کے ساتھ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ہم اپنے سفارت کار کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور اسے فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں"۔

بعد ازاں قاسمی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ "اگر کسی غیر موجود امر کے حوالے سے غلط فہمہ پیدا ہو گئی ہے تو ،،، خواہ یہ دوسروں کی سازش ہو یا غلطی ،،، ہم بیٹھ کر اس پر بات کر سکتے ہیں"۔