.

ترکی : لیرہ کے بحران میں شدّت کے ساتھ افراطِ زر کی شرح 25% تک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں بدھ کے روز جاری سرکاری معلومات کے مطابق ستمبر کے مہینے میں سالانہ بنیاد پر افراطِ زر کی شرح بڑھ کر 25 فی صد تک چلی گئی ہے۔ یہ گزشتہ 15 برسوں میں ریکارڈ کی جانے والی اعلی ترین سطح ہے۔ اس سے معیشت اور صارفین پر کرنسی کے بحران کے مرتّب اثرات کی شدت نمایاں ہو رہی ہے۔

ترکی کی کرنسی لیرہ نے رواں برس کے آغاز کے بعد سے اپنی قدر میں تقریبا 40 فی صد تک کمی کا سامنا کیا۔ لیرہ کی قدر صدر رجب طیب ایردوآن کے مالیاتی پالیسی پر کنٹرول کے اندیشے اور امریکا کے ساتھ اختلاف سے بڑی حد تک متاثر ہوئی۔

کرنسی کے یک دم نیچے جانے سے مختلف نوعیت کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ سامنے آیا جن میں غذائی اشیاء اور ایندھن نمایاں ترین ہیں۔ علاوہ ازیں مالیاتی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا۔ اس سے قبل ترکی کی مارکیٹ تیزی سے ابھرتی ہوئی منڈیوں میں شمار کی جاتی تھی۔

اس سرکاری معلومات کے جاری ہونے کے بعد لیرہ کی قدر میں کمی واقع ہوئی ،،، اور ایک امریکی ڈالر 6.0633 لیرہ کے مساوی ہو گیا۔

ترکی کے سرکاری ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ برس ستمبر کے مقابلے میں رواں برس اس ماہ میں افراطِ زر کی شرح میں 24.52 فی صد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ رواں برس اگست کے مقابلے میں ستمبر کے دوران افراطِ زر کا تناسب 6.3 فی صد رہا۔

شراب کے سوا تقریبا تمام غذائی اشیاء اور مشروبات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ معلومات کے مطابق گھریلو سامان اور آلات کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر11.41 فی صد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ٹرانسپورٹ کی قیمتیں 9.15 تک بڑھ گئیں۔