.

ایران کو امریکی دھمکیوں اور اقتصادی مسائل کے پیش نظر مشکل وقت کا سامنا ہے: خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نےاعتراف کیا ہے کہ امریکا کے دباؤ اور اقتصادی مسائل کے پیش نظر ایرانی عوام اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں ۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو دارالحکومت تہران میں ایک اسٹیڈیم میں بسیج ملیشیا اور پاسداران انقلاب ایران کے ہزاروں اہلکاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ان کی یہ تقریر ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے براہ راست نشر کی گئی ہے۔

خامنہ ای نے کہا’’ قوم ، خطے اور دنیا کی صورت حال حساس ہے۔ بالخصوص ایران کے عوام کے لیے صورت حال بہت ہی نازک ہے اور یہ اس لحاظ سے حساس اور نازک ہے کہ ایک طرف تو ہمیں استعماری امریکا کے سیاست دانوں اور طاغوتی طاقتوں کی غوغا آرائی کا سامنا ہے ، دوسری جانب قوم کو درپیش اقتصادی مسائل ہیں اور ملک کے کمزور طبقے کے ایک بڑے حصے کا معیار زندگی پست تر ہوتاجارہا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ 2018ء کے آغاز کے بعد سے ایرانی ریال اپنی قریباً 75 فی صد قدر کھو چکا ہے۔ اس پر مستزاد امریکا کی ایران کے خلاف عاید کردہ نئی پابندیاں ہیں جن کے ایرانی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔امریکا ایران کے تیل کے شعبے پر 4 نومبر سے مزید نئی پابندیاں عاید کررہا ہے۔ان کے تحت ایران کی تیل کی برآمدات کو ہدف بنایا جائے گا۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران کو جوابی تھپڑ رسید کرنا چاہیے اور پابندیوں کو شکست دے کر امریکا کو شکست سے دوچار کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ اللہ کی مہربانی سے ہم پابندیوں کو شکست دیں گے اور یہ شکست امریکا کی بھی ہار ہوگی۔امریکا کی پابندیوں کو شکست دے کر ایرانی عوام کی جانب سے ایک اور تھپڑ رسید کیا جانا چاہیے‘‘۔