نیٹو کا روس کے سائبر حملوں کے خلاف اپنا دفاع مضبوط کرنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شمالی اوقیانوس کے ممالک کا اتحاد "نیٹو" بھڑکتی ہوئی سائبر وار میں داخل ہو گیا ہے۔ نیٹو نے روس کو خبردار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سائبر حملوں کے حوالے سے ماسکو کی غیر ذمّے دارانہ کارروائیوں کے خلاف اتحاد کا دفاع مضبوط بنایا جائے گا۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے نئے میزائل سسٹم کی تیاری ،،، درمیانی مار رکھنے والے جوہری ہتھیاروں کی تلفی کے حوالے سے سوویت یونین اور امریکا کے درمیان سمجھوتے کی صریح خلاف ورزی ہے۔

نیٹو کی جانب سے یہ موقف روسی عسکری انٹیلی جنس سے منسوب ہیکنگ کی کارروائیوں کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ہالیںڈ اور برطانیہ کے اداروں نے بعض سائبر حملوں کو ناکام بنا دیا تھا جن میں کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کو ہدف بنایا گیا۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ "کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کے خلاف حال ہی میں سامنے آنے والا روسی عسکری انٹیلی جنس کا سائبر حملہ ، ماسکو کے غیر ذمّے دارانہ افعال اور برتاؤ کے سلسلے کی کڑی ہے"۔ میٹس کے مطابق مذکورہ سائبر حملہ رواں سال اپریل میں یعنی لندن میں روسی ایجنٹ اور اس کی بیٹی کو زہریلے مواد سے نشانہ بنانے کے ایک ماہ بعد، عمل میں آیا تھا۔

ادھر نیتو کے سکریٹری جنرل ینس اسٹولٹنبرگ نے باور کرایا ہے کہ "ہم نمایاں پیش رفت کو یقینی بنا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سائبر آپریشنز کا مرکز قائم کیا جا رہا ہے اور اس میدان میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے"۔

نیٹو اتحاد کے رکن ممالک کا متفقہ موقف ہے کہ روس کا جدید Novator 9M729 میزائل سسٹم درمیانی مار رکھنے والے جوہری ہتھیاروں کی تلفی کے حوالے سے سوویت یونین اور امریکا کے درمیان سمجھوتے کی صریح خلاف ورزی ہے۔

روس کے جدید میزائل 500 سے 5500 کلو میٹر تک کا فاصلہ طر کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان میزائلوں کے ذریعے پورے یورپ میں کسی بھی ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں