.

البیضاء صوبے میں یمنی فوج کے ہاتھوں 17 حوثی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صوبے البیضاء میں قانیہ کے محاذ پر حوثی ملیشیا کے کم از کم 17 ارکان کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

عسکری ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ مارے جانے والے 17 حوثی باغی قانیہ کے محاذ پر الیسبل کے علاقوں اور القردعی کی کمین گاہوں میں یمنی فوج کے ٹھکانوں کی جانب دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔ بچ جانے والے بقیہ حوثیوں نے صوبے کے شمال میں السوادیہ ضلعے میں الوہبیہ کے علاقے کی سمت راہ فرار اختیار کی۔

ادھر صنعاء میں مقامی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے سکیورٹی اقدامات ار تلاشی کی کارروائیوں کو سخت کر دیا ہے تا کہ دارالحکومت کے وسط میں التحریر اسکوائر کی سمت شہریوں کی آمد و رفت کو روک دیا جائے۔

ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے اپنے مسلح عناصر کو التحریر اسکوائر کے نزدیک سڑکوں اور محلوں میں تعینات کر دیا ہے۔ ساتھ ہی عسکری گاڑیوں میں مسلح دستوں کا گشت بھی جاری ہے۔

علاوہ ازیں سکیورٹی چیک پوائنٹس بھی قائم کر دیے گئے ہیں جہاں شہریوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ ان احکامات کو مسترد کرنے والے افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنے عناصر کو دارالحکومت صنعاء میں ہوٹلوں اور ریسٹ ہاؤسز کی تلاشی کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں کئی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا جن کے پاس شناختی کارڈ موجود نہیں تھا۔

حوثی ملیشیا کو اس وقت "بُھوکوں کے انقلاب" کا اندیشہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس انقلاب کی کال سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنان کی جانب سے احتجاجا دی گئی ہے اور اس کی بنیاد ملک کو درپیش کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ اور قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ ہے۔