ایرانی تیل سے متعلق پابندیوں سے استثنا دینے پر غور کر رہے ہیں: امریکی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی حکومت کے ایک عہدے دار نے جمعے کے روز اس امر کی تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران سے تیل کی درآمدات کم کرنے والے ممالک کو آئندہ ماہ سے عائد ہونے والی پابندیوں سے استثنا دینے پر غور کر رہی ہے۔

امریکی انتظامیہ رواں سال مئی میں ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے سے علاحدہ ہو گئی تھی۔ وہ آئندہ ماہ چار نومبر سے ایرانی خام تیل کے صارفین پر انفرادی طور سے دوبارہ پابندیاں عائد کر دے گی۔ ان پابندیوں کا مقصد تہران کو مجبور کرنا ہے کہ وہ شام اور عراق میں اپنی مداخلت کو روک دے اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کر دے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے 2015ء میں امریکا اور پانچ بڑے ممالک کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے کی پاسداری کی ہے۔

مذکورہ امریکی عہدے دار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران سے تیل کی درآمدات کرنے والے ممالک میں ہر ایک کے ساتھ صورت حال کے لحاظ سے کام کے لیے تیار ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ ماہ بھارت میں کہا تھا کہ "امریکی انتظامیہ استثنا دینے پر غور کرے گی اور ایرانی تیل کے خریداروں کو تہران کے ساتھ لین دین روکنے کے لیے کچھ وقت درکار ہو گا"۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے جمعرات کے روز انکشاف کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کا مقصد استثنا پیش نہ کرنا اور ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات کو صفر تک لے جانا ہے۔ بولٹن کے مطابق ضروری نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اسے یقینی بنا لے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں