سعودی عرب امریکا سے 30 سال پہلے بھی موجود تھا: محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے حوالے سے ایک متنازع بیان سامنے آیا جس میں انہوں‌ نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کی بادشاہت امریکا کے دم سے قائم ہے اور امریکا اپنا ہاتھ کھینچ لے تو سعودی بادشاہت دو ہفتے بھی نہ نکال سکے۔

اسی حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکا کے باہمی تعلقات برسوں پر محیط ہیں۔ سعودی عرب 1744ء یعنی امریکا کے قیام سے بھی 30 سال پہلے موجود تھا۔

انہوں‌ نے کہا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما 8 سال تک اقتدار پر فائز رہے اور انہوں‌ نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں ہمارے ایجنڈے کے خلاف کام کیا۔ امریکا نے ہمارے ایجنڈے کے خلاف کام کیا اس کے باوجود ہم نے اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ نتیجتاً ہم کامیاب رہے اور امریکا ناکام ہوا۔ اس کی مثال مصر میں دیکھی جاسکتی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بارے میں‌ انہوں نے کہا کہ غلط فہمیاں ہر جگہ پیدا ہوتی ہیں۔ ایک گھر میں بھی خانگی امور پر تمام افراد کا 100 فی صد اتفاق نہیں ہوتا۔ دوستوں کے درمیان بھی اختلاف رائے ہوسکتا ہے۔ ماضی کی نسبت سعودی عرب اور امریکا کے باہمی تعلقات بہتر اور خوش گوار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں