.

ترک صدر ایردوآن لاپتا جمال خاشقجی کے معاملے میں مثبت نتیجے کے لیے پُرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ وہ لاپتا سعودی صحافی جمال خاشقجی کے کیس کے مثبت نتیجے کے بارے میں پُرامید ہیں اور وہ اس تمام معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں۔

انھوں نے اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک حکام تمام کیمروں کے ریکارڈ کو دیکھ رہے ہیں اور ہوائی اڈے کے داخلی اور خارجہ راستوں کی بھی نگرانی کررہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ترکی پراسیکیوٹرز کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرے گا۔

ترک صدر کے اس بیان سے جمال خاشقجی کے بارے میں پہلے منظرعام پر آنے والی رپورٹس کی نفی ہوگئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ انھیں شاید قتل کر دیا گیا ہے۔

سعود ی عرب نے استنبول میں اپنے قونصل خانے میں ان کے لاپتا ہونے کے حوالے سے تمام بے بنیاد اور اشتعال انگیز الزامات کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کو دنیا میں ہر کہیں اپنے شہریوں کے تحفظ میں دلچسپی ہے اور وہ ایک غیرملک میں جمال خاشقجی کے لاپتا ہونے سے متعلق اسرار کی حقیقت جاننے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

سعودی عرب نے سکیورٹی حکام پر مشتمل ایک وفد استنبول بھیجا ہے تاکہ وہ ترک حکام سے اس معاملے کی پیش رفت پر بات چیت کر سکے اور ان سے رابطے میں رہے ۔

بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جمال خاشقجی کی استنبول میں گم شدگی کے واقعے کو سعودی حکومت کے خلاف مہم برپا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان کے لاپتا ہونے کی سب سے پہلے اطلاع ایک قطری چینل نے دی تھی اور اس نے ایک ترک خاتون کے حوالے سے کہا تھا کہ وہ جمال خاشقجی کے ساتھ استنبول میں سعودی قونصل خانے میں گئی تھی تاکہ وہ وہاں طلاق کی دستاویزات حاصل کرسکیں اور پھر دونوں شادی کرسکیں لیکن اس خاتون کے بہ قول وہ اس کے بعد قونصل خانے سے باہر نکلتے نہیں دیکھے گئے ہیں۔

دوسری جانب سعودی سفارتی مشن نے بعد میں کہا تھا کہ جمال خاشقجی اپنے مطلوبہ کاغذات لے کر دفتر کے اوقات کار ختم ہونے سے بہت پہلے ہی واپس چلے گئے تھے۔تاہم قطری نیوز چینلوں اور ترک پارٹیوں کا کہنا ہے کہ خاشقجی ابھی تک قونصل خانے کے اندر ہی موجود ہیں۔

اس الزام کے جواب میں سعودی قونصل خانے نے اپنے تمام کمرے صحافیوں کے لیے کھول دیے تھے جس سے اس بات کی تصدیق ہوگئی تھی کہ جمال خاشقجی وہاں موجود نہیں ہیں۔سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے شہری کی تلاش کے لیے سر توڑ کوششیں شروع کررکھی ہیں ۔واضح رہے کہ پُراسرار طور پر لاپتا ہونے والے سعودی صحافی گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے بیرون ملک رہ رہے ہیں۔