افغانستان میں جانی نقصان کے ضیاع پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں حالیہ عرصے کے دوران طالبان اور "داعش" کے جنگجوئوں کے حملوں میں عام شہریوں کو بے پناہ جانی نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اور داعش کے جنگجو شہریوں پر اندھا دھند بم پھیک رہےہیں جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر میں افغانستان میں خود کش حملوں، بم دھماکوں، دستی بموں اور دیگر جنگی حربوں کے نتیجے میں 1065 افراد مارے گئے جب کہ 2569 زخمی ہوئے ہیں۔ سنہ 2017ء کے ستمبر کی نسبت رواں سال شہریوں کا ہونے والا جانی نقصان 21 فی صد زیادہ ہے۔

رپورٹ میں‌بتایا گیا ہے کہ ستمبر میں جنگجوئوں کے حملوں میں جاں‌بحق ہونے والے افغان شہریوں میں 155 بچے اور 72 خواتین بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2017ء کی نسبت رواں سال افغانستان میں خود کش حملوں میں 46 فی صد اضافہ دیکھا گیا۔ طالبان اور داعش کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سپورٹس کارکن، نمازی، انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنان، سرکاری ملازمین، اور انتخابی عملے کے کارکنان شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمیشن کے مطابق داعش کے حملے میں 52 فی صد اور طالبان کے حملوں میں 40 فی صد عام شہریوں کو جانی نقصان پہنچا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں