انٹرپول کے سابق سربراہ نے رشوت وصول کی: چین کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین نے پیر کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ تصدیق کی ہے کہ انٹرپول کے مستعفی سربراہ اور چین کی پبلک سکیورٹی کے نائب وزیر مینگ ہونگ وائی نے "رشوت وصول" کی تھی۔ یہ انکشاف مینگ سے پوچھ گچھ شروع کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔

چین کی پبلک سکیورٹی کی وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مینگ نے رشوت وصول کی اور شبہ ہے کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم ان الزامات کے حوالے سے مزید وضاحت نہیں کی گئی۔

ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا مینگ پر عائد الزامات کا تعلق ان کی وزارتی ذمے داریوں سے ہے یا پھر انٹرپول میں ان کے مشن سے۔

چین کے نیشنل سپرویژن کمیشن نے جو کہ سرکاری ملازمین کی بدعنوانی کے کیسز کو دیکھتا ہے اس نے اتوار کی شب اپنی ویب سائٹ پر بیان میں کہا تھا کہ مینگ ہونگ وائی سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

انٹرپول کے مطابق اتوار کو انہیں مینگ ہونگ وائی کا بطور صدر استعفی ملا۔

اس سے قبل جمعرات کے روز مینگ کی اہلیہ گریس نے فرانسیسی پولیس کو آگاہ کیا تھا کہ اُن کے شوہر 25 ستمبر کو فرانس کے شہر لیون سے چین کے لیے روانہ ہونے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ گریس کا کہنا تھا کہ 64 سالہ مینگ "خطرے میں ہیں"۔

مینگ ہونگ وائی نومبر 2016ء سے 192 ممالک پر مشتمل 'انٹرپول' تنظیم کے سربراہ تھے۔

مینگ کی جگہ جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے کِم جونگ یانگ انٹرپول کے نئے سربراہ ہوں گے۔ وہ اس وقت تنظیم کی مجلس عاملہ کے نائب سربراہ ہیں۔ کم جونگ یانگ نومبر میں دبئی میں انٹرپو کی جنرل اسمبلی کی جانب سے دو سال کی مدت کے لیے نئے سربراہ کے انتخاب تک بطور سربراہ ذمّے داریاں پوری کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں