ایران ایک بار پھر امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اعلان کیا ہے کہ اُن کا ملک ایک نئے معاہدے کے طے پانے کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای امریکا کے ساتھ کسی بھی نئے مذاکرات کو مسترد کر چکے ہیں۔

ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق ظریف نے نیویارک میں برطانی چینل "بی بی سی" کو دیے گئے انٹرویو میں باور کرایا کہ "دروازے کھلے ہوئے ہیں، بشرط یہ کہ اس طرح کی ملاقات قابل اعتبار ہونی چاہیے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایران کی شرط یہ ہے کہ اس بات کی ضمانت دی جانی چاہیے کہ سمجھوتا طے پاتے ہی اس پر عمل درامد ہو جائے گا۔

جواد ظریف کے مطابق جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے امریکی دباؤ کا سامنا کرنے میں یورپ کی سپورٹ "توقع سے زیادہ بہتر رہی"۔

واضح رہے کہ ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای نے جمعرات کے روز پاسداران انقلاب کی باسیج فورس سے خطاب کے دوران امریکا کے ساتھ کسی بھی نئے مذاکرات کو مسترد کر دیا تھا۔ خامنہ ای نے بات چیت کے مطالبہ کرنے والی ایرانی شخصیات کے بارے میں کہا کہ "یہ ریاست کے لوگ نہیں بلکہ ایجنٹس ہیں"۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ دشمنوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران کے اندر آوازیں اٹھا رہے ہیں وہ غدار ہیں"۔

خامنہ ای کے سخت بیانات کے باوجود کئی مبصرین کے نزدیک ایرانی رہبر اعلی کا موقف مقامی سطح پر ہمدردیاں سمیٹنے کی کڑی ہے اور جب ایرانی نظام کی بقاء کے لیے خطرہ بننے والے دباؤ کا سامنا ہو گا تو وہ حکومت کو مذاکرات کی ہدایت کر دیں گے جیسا کہ جوہری معاہدے کے معاملے میں بھی ہوا۔

دوسری جانب امریکا نے تہران کے ساتھ کسی بھی نئے معاہدے کے واسطے بات چیت شروع کرنے کو 12 امور پر عمل درامد سے مشروط کر رکھا ہے۔ ان میں اہم ترین امور خطے کے ممالک سے ایرانی فورسز اور اس کی ملیشیاؤں کا انخلا، دہشت گردی کی سپورٹ روکنا اور ایرانی میزائل اور جوہری پروگرام کو منجمد کرنا شامل ہے۔ ایرانی سخت گیر حلقوں کے نزدیک ان امور کا نتیجہ ایرانی نظام کی بتدریج کمزوری اور بالآخر سقوط کی صورت میں سامنے آئے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں