سعودی وزارتِ خارجہ نے الریاض سے ترک سفیر کو بے دخل کرنے کی خبروں کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے الریاض میں متعیّن ترک سفیر کو بے دخل کرنے سے متعلق خبری رپورٹس کی تردید کردی ہے۔

اس عہدے دار نے سوموار کو ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ترک سفیر کی بے دخلی سے متعلق رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔اس دوران میں خبری ذرائع نے گذشتہ منگل سے ترکی میں لاپتا سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بارے میں مختلف بے بنیاد رپورٹس کو پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

ان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا گیا ہے جبکہ خود ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بہ ذات خود ان دعووں کو مسترد کردیا ہے اور انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ لاپتا صحافی بہ خیروعافیت منظرعام پر آجائیں گے۔

جمال خاشقجی کے پُراسرار طور پر غائب ہوجانے کے بعد استنبول میں سعودی قونصل خانے نے ہفتے کے روز اپنے تمام کمرے صحافیوں کے لیے کھول دیے تھے جس سے اس بات کی تصدیق ہوگئی تھی کہ وہ وہاں موجود نہیں ہیں اور ان کے اغوا سے متعلق بے بنیاد الزامات کی بھی تردید ہو گئی تھی۔سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے اس شہری کی تلاش کے لیے سر توڑ کوششیں شروع کررکھی ہیں ۔

اسی روز سعودی قونصل کے ایک افسر نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا جس میں ترک حکام کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ جمال خاشقجی کو قونصل خانے کی عمارت کے اندر قتل کردیا گیا ہے۔ان کے خاندان نے بھی بعض ممالک اور میڈیا ذرائع کی جانب سے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ہم ان کی بہ حفاظت بازیابی کے لیے سعودی حکام سے تعاون کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ پُراسرار طور پر لاپتا ہونے والے سعودی صحافی گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے بیرون ملک رہ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں