ڈونر ممالک نے شام کی تعمیر نو میں شرکت کو کس چیز سے مشروط کیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے لیے مغربی اور علاقائی ڈونر ممالک نے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک سیاسی عمل کے آغاز سے قبل شام کی تعمیر نو میں حصّہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ اقتدار کی جامع اور حقیقی سیاسی منتقلی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے مطابق اس موقف کا انکشاف ڈونر ممالک کے وزراء خارجہ جن میں امریکی وزیر مائیک پومپیو شامل ہیں، ان کی جانب سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس کو ارسال کی گئی دستاویزات میں ہوا۔ ان کے ساتھ اقوام متحدہ کے دیگر کاغذات بھی سامنے آئے ہیں جن میں باور کرایا گیا ہے کہ جنگی جرائم میں ملوث عناصر کے ساتھ کوئی معاملہ نہیں کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں ایک یورپی دستاویز میں یہ بات دہرائی گئی ہے کہ اقوام متحدہ تعمیر نو کے عمل میں سہولت کاری کے واسطے اُس وقت تیار ہو گی جب شامی فریقوں کے بیچ طے شدہ جامع سیاسی منتقلی واقع ہو جائے گی۔

ادھر ادلب کے حوالے سے سُوچی معاہدے میں مجوزہ غیر فوجی علاقے سے شامی اپوزیشن کے بھاری ہتھیاروں کے ہٹا لیے جانے کے لیے دی گئی مہلت دو روز بعد ختم ہو رہی ہے۔ اپوزیشن گروپوں کی جانب سے ہتھیاروں کے ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ شدت پسند گروپ ایسا کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق مذکورہ معاہدے پر عمل درامد کے حوالے سے اپوزیشن کا موقف تقسیم ہے۔ بعض مسلح گروپوں نے بھاری ہتھیاروں کو چھپانے کے لیے خندقیں بنا لی ہیں جب کہ دیگر جنجگو گروپوں نے ادلب میں غیر فوجی علاقے سے اپنے بھاری ہتھیاروں کو ہٹانے کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ گروپوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند روز میں یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔

دوسری جانب شام کے صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ ادلب کے حوالے سے معاہدہ ایک عارضی اقدام ہے جس کے ذریعے زمینی طور پر بہت سے فوائد سمیٹ لیے گئے ہیں۔ بشار نے ادلب کے معرکے سے قبل یورپی ممالک کے موقف کو "ہذیانی موقف" قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں