.

خاشقجی کے معاملے میں تیسرے فریق کا وجود خارج از امکان نہیں: ایردوآن کے مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکمراں جسٹس ایند ڈیولپمنٹ پارٹی کے مشیر یاسین اقطائے کا کہنا ہے کہ انقرہ نے صحافی جمال خاشقجی کے لاپتا ہونے کے معاملے میں سعودی عرب پر کوئی الزام عائد نہیں کیا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے مشیر نے پیر کے روز ایک روسی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اس جانب اشارہ کیا کہ "سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دراڑ ڈالنے کے لیے کسی سازش کی موجودگی کا امکان ہو سکتا ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہو سکتا ہے کہ کسی تیسرے فریق نے خاشقجی کو اغوا کیا ہو"۔

یاسین اقطائے نے خاشقجی کے معاملے کے حوالے سے افواہوں میں سامنے آنے والی باتوں کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ "سعودی صحافی کے قتل کے حوالے سے برطانوی خبر رساں ایجنسی نے جو بتایا وہ کوئی سرکاری بیان نہیں ہے"۔

ترک مشیر نے زور دے کر کہا کہ ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی تاریخی بنیادیں ہیں۔ یاسین اقطائے نے اس امید کا اظہار کیا کہ خاشقجی کے معاملے سے یہ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔

یاد رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اتوار کے روز کہا تھا کہ وہ لاپتا سعودی صحافی جمال خاشقجی کے کیس کے مثبت نتیجے کے بارے میں پُرامید ہیں اور وہ اس تمام معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترک حکام تمام کیمروں کے ریکارڈ کو دیکھ رہے ہیں اور ہوائی اڈے کے داخلی اور خارجہ راستوں کی بھی نگرانی کر رہے ہیں۔ ایردوآن کے مطابق ترکی پراسیکیوٹرز کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں سعودی صحافی کا لاپتا ہونا افسوس ناک امر ہے۔

دوسری جانب جمال خاشقجی کے گھرانے نے باور کرایا کہ معاملے کی پیش رفت جاننے کے لیے سعودی حکومت کے ساتھ رابطہ کاری جاری ہے۔ جمال کے قانونی مشیر معتصم خاشقجی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "ہمیں سعودی حکومت اور اس کے اقدامات پر پورا اعتماد ہے"۔