.

جمال خاشقجی کی پُراسرار گمشدگی اور مبیّنہ قتل کی من گھڑت کہانی وضع کرنے والے تین کردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے ترکی کے شہر استنبول میں پُراسرار طور پر لاپتا ہونے کے بعد سے مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں اور میڈیا ادارے اپنے اپنے ذرائع کے حوالے سے مختلف من گھڑت خبریں جاری کررہے ہیں۔

جمال خاشقجی کی اچانک گمشدگی کے واقعے میں تین شخصیات کو عینی شاہد یا موقع کے گواہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور ن ہی کے حوالے سے گم راہ کن پروپیگنڈے پر مبنی خبریں جاری کی گئی ہیں ،ان میں جمال خاشقجی کے لاپتا ہونے کا الزام سعودی حکام پرعاید کیا گیا تھا۔

منگیترترک خاتون

جمال خاشقجی کے لاپتا ہونے کی سب سے پہلے اطلاع ان کی منگیتر ہونے کی دعوے دار خدیجہ چنگیز نے دی تھی۔اس ترک خاتون کے پس منظر کی تحقیقات کے بعد پتا چلا ہے کہ ان کا قطر سے تعلق رہا ہے۔قطر کے سرکاری میڈیا ہی نے سب سے پہلے سعوی حکام پر جمال خاشقجی کو قونصل خانے میں قتل کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

خدیجہ چنگیز کی ٹویٹر فیڈ سے اس بات کا انکشاف ہو اہے کہ وہ ان لوگوں کی پیروکار ہیں اور ان کی تائید کرتی ہیں، جو سعودی عرب کے ناقد ہیں۔اس کے علاوہ وہ قطر کی مالی معاونت سے چلنے والی تنظیموں ، اخوان المسلمون کے ارکان اور ترکی کی حکمراں جماعت آق کی پیروکار ہیں۔انھوں نے اپنی ٹویٹس میں کھلے عام لکھا ہے کہ وہ سعودی پالیسیوں کی مخالف ہیں۔

وہ یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ جمال خاشقجی کی منگیتر ہیں لیکن ان کے خاندان نے اس تعلق کے حوالے سے لاعلمی ظاہر کی ہے ۔

عینی شاہد

ترک صحافی طوران کسلکچل نے میڈیا کے سامنے خود کو اس واقعے کے عینی شاہد کے طور پر پیش کیا ہے۔

انھوں نے خود کو ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے شعبہ عربی کے بانی کے طور پر متعارف کرایا تھا لیکن انھوں نے عملی طور پر خود کو ایک سیاسی کارکن کے روپ میں پیش کیا ہے۔ وہ جمال خاشقجی کے لاپتا ہونے کے بعد استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے کے خلاف مظاہروں میں پیش رہے ہیں اور انھوں نے سعودی حکام کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی تھی۔

انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کے پندرہ سکیورٹی اہلکاروں نے قونصل خانے میں جمال خاشقجی کو قتل کردیا تھا لیکن بعد میں خود ترک حکام نے اس خبر کی تردید کردی تھی۔سعودی ٹیم دراصل تحقیقات کاروں پر مشتمل تھی۔وہ ترک حکام کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت جمال خاشقجی کے لاپتا ہونے کے بعد تحقیقات کے لیے استنبول آئے تھے۔

مسٹر طوران استنبول میں قائم فکر ِجواں فورم کے ایک عہد ے دار بھی رہے تھے۔ یہ فورم مصر ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کے خلاف ہے۔

الجزیرہ کا رپورٹر

جمال خاشقجی کے لاپتا ہونے کے واقعے کی غلط رپورٹنگ میں جس شخصیت نے اہم کردار کیا ہے،وہ الجزیرہ کے نمایندے جمال الشایال ہیں۔

الشایال لندن میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کے موقع پر ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے تھے۔جب سعودی ولی عہد کار سے اتررہے تھے تو انھوں نے چلّاتے ہوئے ان سے سوال پوچھنے کی کوشش کی تھی لیکن انھیں بالکل نظر انداز کردیا گیا تھا۔وہ اخوان المسلمون کی رابعہ ہاتھ والی تصاویر میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ نمودار ہوئے تھے۔

ان کے بھائی قطر کی مالی معاونت سے چلنے والی خبری ویب گاہ العربی الجدید کے ڈائریکٹر ہیں۔دوحہ اور لندن میں اخوان المسلمون کی شخصیات اس سائٹ کی نگرانی کرتی ہیں ۔اس کو امیرِ قطر کے مشیر اور فلسطینی سیاست دان عزمی بشارہ چلارہے ہیں ۔ان کے والد اخوان المسلمون کی ایک سرکردہ شخصیت ہیں اور وہ بھی امیرِ قطر کے لیے کام کرتے ہیں۔