خاشقجی کی کہانی نے ابتدائی 20 گھنٹوں تک کون سے موڑ لیے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ترکی میں روپوش ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی کہانی میں ابتدائی خبر آنے کے بعد 20 گھنٹوں تک کئی ڈرامائی، من گھڑت اور جھوٹے موڑ دیکھنے میں آئے۔ بعض ایسے فریق بھی تھے جنہوں نے سعودی عرب کے ساتھ حساب چکانے کے لیے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔ تاہم حقیقت سامنے آئی اور یہ عناصر اغوا اور قتل کا منظرنامہ پیش کرنے کے بعد چند ہی گھنٹوں کے اندر اپنی جھوٹی اور من گھڑت ٹوئیٹس حذف کرنے پر مجبور ہوئے۔ آخرکار عالمی ذرائع ابلاغ سعودی صحافی کے حوالے سے "روپوشی" کے انجام پر متفق ہو گئے۔

درجِ ذیل سطور میں العربیہ ڈاٹ نیٹ اُن منظرناموں کو پیش کر رہی ہے جو بعض ذرائع ابلاغ نے حقائق کو توڑ موڑ کر پھیلانے کی کوشش کی :

الاخوان المسلمین اور قطر کے زیر انتظام ذرائع ابلاغ یہ خبر پھیلاتے رہے کہ سعودی عرب نے استنبول میں اپنے قونصل خانے میں سعودی لکھاری جمال خاشقجی کو اغوا کر لیا۔

سعودی ولی عہد نے بلومبرگ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں اس کی تردید کی اور باور کرایا کہ مملکت تصدیق کے لیے کسی کے بھی سامنے قونصل خانے کو کھول دے گی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی "رائٹرز" نے بتایا کہ اس کی ایک ٹیم نے قونصل خانے میں داخل ہو کر وہاں خاشقجی کی عدم موجودگی کی تصدیق کر لی ہے۔ اس پر ترکی کے حکام کا تبصرہ جاننے کی کوشش کی گئی تو مذکورہ خبر رساں ایجنسی کو آگاہ کیا گیا کہ اب صرف یہ ہی خیال کیا جا سکتا ہے کہ خاشقجی کو قونصل خانے میں قتل کر کے لاش باہر منتقل کر دی گئی۔

رائٹرز نے نامعلوم سکیورٹی ذریعے اور ترک صدر کے ایک مشیر کے حوالے سے بریکنگ نیوز دی کہ ان افراد کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازہ یہ ہے کہ خاشقجی کو قتل کر کے لاش کو قونصل خانے سے باہر منتقل کر دیا گیا۔

یہ خبر قطر کے تمام ذرائع ابلاغ اور الاخوان المسلمین کے انٹرنیٹ پر تمام صفحات کی زینت بنا دی گئی۔ ان میں بعض ترک ذرائع بھی شامل تھے۔

سعودی عرب کے ایک بیان میں خاشقجی کے قتل کی تردید کی گئی اور بتایا گیا کہ مملکت ترکی میں سعودی صحافی کی روپوشی کی تحقیقات کے لیے ایک وفد بھیجے گا۔

انٹرنیٹ پر سیکڑوں اکاؤنٹس نے بیک وقت خاشقجی کے قتل کی خبر کو معتبر بنانے کے لیے تعزیتی پیغامات پھیلانا شروع کر دیے۔

قطر کے نیوز چینل الجزیرہ نے ایک فرضی اکاؤنٹ سے منسوب خبر پھیلائی کہ خاشقجی کی لاش مل گئی ہے اور ان کی تدفین دو روز بعد ہو گی۔

لندن میں الاخوان کی ایک ویب سائٹ پر کہا گیا کہ خاشقجی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ قطری میڈیا نے جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے کر کے قونصل خانے سے باہر لے جایا گیا۔

ترکی کی خبر رساں ایجنسی نے دعوی کیا کہ خاشقجی کی موجودگی کے دوران 15 سعودی اہل کار استنبول میں سعودی قونصل خانے پہنچے اور خاشقجی کے قتل کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اس خبر کی تردید کی۔ ایردوآن نے کہا کہ وہ خود اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور اس سلسلے میں مثبت نتیجے کے حوالے سے پُر اُمید ہیں۔

ترکی کے میڈیا نے جمال خاشقجی کے قتل کی خبر کو روپوشی میں تبدیل کر دیا۔ اناضول خبر رساں ایجنسی نے ٹوئیٹ کی تصحیح جاری کرتے ہوئے کہا کہ "سعودی سکیورٹی وفد صحافی جمال خاشقجی کی روپوشی کے کئی روز بعد اتوار کو استنبول میں سعودی قونصل خانے پہنچا"۔

ایک طرف گمراہ کن میڈیا کوریج اور انارکی کی تضحیک کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف قطری میڈیا جھوٹی خبر کی بنیاد پر مسلسل آراء اور تجزیے پیش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں