.

ترکی اور سعودی عرب کی مشترکہ ٹیم خاشقجی گم شدگی کیس کی تحقیقات کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر کے دفتر نے لاپتا سعودی شہری اور صحافی جمال خاشقجی کے کیس کی تحقیقات کے لیے سعودی عرب اور ترکی کی ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے صدر رجب طیب ایردوآن کے ترجمان ابراہیم کالین کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ انقرہ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی غرض سے سعودی عرب کی تجویز قبول کر لی ہے۔ یہ مشترکہ ٹیم اب اس معاملے کی چھان بین کرے گی۔

جمال خاشقجی منگل 2 اکتوبر کو استنبول میں اچانک لاپتا ہوگئے تھے ۔ان کی گم شدگی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک بحرانی کیفیت پیدا کردی ہے۔گذشتہ جمعہ سے قبل مصر کی کالعدم مذہبی وسیاسی جماعت اخوان المسلمون اور قطر سے وابستہ میڈیا ذرائع نے اپنی خبری رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ سعودی حکام نے استنبول میں واقع اپنے قونصل خانے میں خاشقجی کو حراست میں لے رکھا ہے۔

لیکن سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا ۔انھوں نے گذشتہ جمعہ کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ’’ جمال خاشقجی استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں نہیں تھے اور وہ ترک حکام کو قونصل خانے کی تلاشی کی اجازت دینے کو تیار ہیں حالانکہ وہ خود مختاری کی حامل جگہ ہے لیکن ہم نے کچھ بھی نہیں چھپایا ہے‘‘۔ ترکی کی وزارت خارجہ نےاس کے بعد کہا تھا کہ سعودی عرب نے لاپتا صحافی کے کیس کی تحقیقات میں ہر طرح کی مدد اور تعاون فراہم کیا ہے۔