.

خاشقجی کے معاملے میں کئی مرتبہ سَر اٹھانے والے ترکی کے "آکٹوپس" کا کردار ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے معاملے میں ظاہر ہونے والے کچھ ناموں نے بعض افواہوں کے پھیلانے اور منظر ناموں کو عام کرنے میں مشکوک کردار ادا کیا۔ ان ہی ناموں میں خاشقجی کی "منگیتر ہونے کی دعوے دار" خاتون خدیجہ چنگیز کے علاوہ توران کشلاکجی نامی شخص بھی شامل ہے۔

ترکی کے سرکاری چینل TRT کو چلانے والا توران کشلاکجی ترکی کے "آکٹوپس" کی عرفیت سے جانا جاتا ہے۔ یہ شخص کئی تصاویر میں جمال خاشقجی اور بہت سی تصاویر میں خدیجہ کے ہمراہ نظر آیا ہے۔

توران میڈیا کی ذمّے داریوں کے سائے تلے سیاست کا کھلاڑی ہے۔ متعدد قوتوں سے رابطے استوار رکھنے کے سبب بعض لوگوں نے اسے ترکی کے آکٹوپس کا نام دے رکھا ہے۔

توران حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ اس کے تعلقات بھی شکوک پیدا کرتے ہیں۔

اس پر لیبیا اور پاکستان میں شدت پسند جماعتوں کے ساتھ قریبی تعلق قائم کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

اسی کی سیاسی نوعیت کی سرگرمیاں الاخوان المسلمین جماعت کے افکار و نظریات پھیلانے کی حد تک پہنچ گئیں۔ وہ اخوان کے تجزیہ کار اور سیاسی مفکر کے طور پر بھی سرگرم رہا۔

جمال خاشقجی کے معاملے میں توران نے پہلے لمحے سے ہی "گمراہ کن" کردار ادا کیا۔ اس نے خدیجہ کے ہمراہ سعودی عرب کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلائی ،،، اس کے باوجود کہ ترکی کی جانب سے سرکاری طور پر یہ باور کرایا گیا تھا کہ معاملے سے متعلق ابھی کوئی سرکاری مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

توران کشلاکجی نے سعودی قونصل خانے کے نزدیک احتجاج کی قیادت انجام دی اور سعودی عرب کے خلاف اشتعال انگیز میڈیا اور سیاسی مہم کا آغاز کر دیا۔