.

پادری برینسن کی رہائی کے لیے کسی ڈیل کا علم نہیں : امریکی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوورٹ کا کہنا ہے کہ ان کی وزارت کو ترکی میں زیر حراست امریکی پادری اینڈرو برینسن کی رہائی کے حوالے سے کسی سمجھوتے کا علم نہیں ہے۔ نوورٹ نے یہ بات جمعرات کے روز میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں کہی۔

برینسن کے معاملے نے ترکی اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

اس سے قبل NBC چینل نے بتایا تھا کہ امریکا اور ترکی ایک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ معاہدے کے تحت برینسن کے مقدمے کی آئندہ پیشی کے دوران اُس پر عائد الزامات کو ختم کر دیا جائے گا اور امریکی پادری کی رہائی عمل میں آ جائے گی۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کے روز واشنگٹن میں امریکی قومی سلامتی سے متعلق یہودی ادارے کے سالانہ عشائیے میں کہا تھا کہ آئندہ جمعے کے روز عدالتی سماعت میں اینڈرو برینسن کی رہائی ایک مثبت اور اہم اقدام ہو گا۔

برینسن کا معاملہ انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان گرما گرمی کو بڑھانے والے سفارتی تنازع میں سب سے زیادہ اختلافی معاملہ بن چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکا نے ترکی پر پابندیاں اور محصولات عائد کر دیے۔

ترکی کا برینسن پر الزام ہے کہ اس کے کرد مسلح عناصر اور امریکا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے حامیوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ انقرہ گولن کو 2016ء میں ناکام فوجی انقلاب کا ذمّے دار ٹھہراتا ہے۔ دوسری جانب اینڈرو برینسن اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے امریکی پادری کو فوری رہائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

ترک حکام نے برینسن کو اکتوبر 2016ء میں حراست میں لیا تھا جس کے بعد سے جیل بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں برینسن کو جیل سے نکال کر اس کی رہائش گاہ میں نظر بند کر دیا گیا۔ برینسن کو درپیش مقدمات میں مجرم ثابت ہو جانے کی صورت میں امریکی پادری کو جیل کی سزا کا سامنا ہو گا جس کی انتہائی مدت 35 برس ہے۔