.

چین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پرامریکی کانگریس برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس نے چین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پرگہری تشویش کا اظہارکیا ہے۔ کانگریس کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے چین میں "یغور" نسل کے مسلمان باشندوں کے ساتھ حکومت غیرانسانی برتائو کررہی ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں انسانی حقوق کے حالات بری طرح خراب ہیں۔

چین سے متعلق کانگریس کی ایگزیکٹو کمیٹی کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران چین میں اقتصادی ترقی کے باوجود بنیادی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ چینی حکام اور سیکیورٹی ادارے "یغور" مسلمانوں کے معاملے میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

کانگریس کی رپورٹ میں چین میں یغور مسلمانوں کے لیے قائم کردہ نام نہاد کیمپوں کے اندر کی صورت حال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب سے شی جن پنگ 2012ء سے کیمونسٹ پارٹی کے صدر بنے ہیں چین میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کمیٹی کے رکن مارک روبیو اور روبیو سمیتھ کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ تشویشن کن صورت ھال ان ایک ملین یغور مسلمانوں کی ہے جنہیں اصلاحی کیمپوں کی آڑ میں غیرانسانی ماحول میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ چین یغور مسلمانوں کو رکھنے کے لیے قائم کردہ کیمپ انسانیت کی تذلیل کےمترادف ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ چین کی کیمونسٹ‌پارٹی کی جانب سے لاکھوں مسلمانوں کو فوجی کیمپوں میں رکھنا مقامی سطح پر سیاسی طاقت کو بڑھانا اور حکومت پراپنا کنٹرول مضبوط کرنا ہے۔ اس طرح کے وحشیانہ حربے انسانی حقوق، مذہبی آزادیوں اوربنیادی انسانی عقاید کے خلاف ہیں۔

رپورٹ میں ہانگ کانگ میں چین کی اجاراہ داری کے قیام کی کوشش کی بھی مذمت کی گئی اور کہا ہے کہ ہانگ کانگ ایک خود مختارعلاقہ ہے اور چین کو اس کے داخلی امورمیں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔