.

افغانستان :خاتون امیدوار کی انتخابی ریلی پر بم حملہ ، 12 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے تخار میں ایک انتخابی امیدوار کی ریلی پر بم حملے میں بارہ افراد ہلاک اور بتیس زخمی ہوگئے ہیں ۔

صوبائی گورنر کے ترجمان محمد جواد ہجری نے بتایا ہے کہ دور دراز واقع ضلع رستق میں پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے والی ایک امیدوار نضیفہ یوسفی بیک کی انتخابی ریلی میں موٹر سائیکل پر سوار حملہ آور بمبارنے خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔اس نے بم موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔تاہم دھماکے میں انتخابی امیدوار نضیفہ محفوظ رہی ہیں۔

افغانستان میں 20 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات منعقد ہورہے ہیں ۔ گذشتہ مہینوں کے دوران میں متعدد انتخابی امیدواروں کے جلسوں اور ریلیوں کو بم حملوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے اور ان میں نو امیدوار مارے جاچکے ہیں۔ افغانستان میں تاخیر سے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ڈھائی ہزار سے زیادہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

9 اکتوبر کو جنوبی صوبہ ہلمند میں خودکش بم دھماکے میں ایک انتخابی امیدوار سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔کسی گروپ نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔اس واقعے سے قبل طالبان نے انتخابی امیدواروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ ان ’’ ڈھونگ انتخابات ‘‘میں حصہ نہ لیں کیونکہ یہ امریکیوں کی ایک مذموم سازش ہیں ۔طالبان نے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور ان کے جلسوں پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔

طالبان کے علاوہ داعش کے جنگجو بھی انتخابی امیدواروں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔2 اکتوبر کو مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک ریلی پر بم حملے میں 13 افراد ہلاک اور 40 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

دریں اثناء طالبان نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ ان کے ایک وفد نے قطر میں امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی ہے اور ان سے افغان تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت کی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے امریکا سے براہ راست مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔