امریکی صدر ترکی میں زیرِ حراست عیسائی پادری کی رہا ئی پر طیب ایردوآن کے ممنونِ احسان

برونسن کی رہائی کے بدلے میں ترکی کے خلاف عاید پابندیاں ہٹانے کے لیے کوئی ڈیل نہیں ہوئی: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی میں زیر ِحراست عیسائی پادری اینڈریو برونسن کی رہائی میں مدد دینے پر صدر رجب طیب ایردوآن کا شکریہ ادا کیا ہے۔

امریکی صدر نے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ وہ مسٹر برونسن سے ہفتے کی دوپہر مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے ( 1830 جی ایم ٹی پر ) ملاقات کریں گے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:’’ انھیں (پادری کو) دیکھنا اور ان سے ملنا بہت اچھا رہے گا۔وہ ایک عظیم عیسائی ہیں جنھیں اس کٹھن تجربے سے گزرنا پڑا ہے۔میں صدر رجب طیب ایردوآن کا پادری کی رہائی میں مدد دینے پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا‘‘۔

ترکی کی ایک عدالت نے اس امریکی پادری کو دوسال تک جاسوسی کے الزام میں زیرِ حراست رکھنے کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کے بعد وہ امریکا روانہ ہوگئے ہیں۔پادری برونسن کی رہائی پر امریکا اور ترکی کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری کے امکانات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان اس پادری کو زیر حراست رکھنے کے علاوہ شام اور ایران کے معاملے پر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اینڈریو برونسن کی رہائی کے بدلے میں ترکی کے خلاف عاید پابندیوں کے خاتمے کے لیے کوئی ڈیل نہیں ہوئی ہے۔واضح رہے کہ پادری کی گرفتاری سے پیدا ہونے والے بحران کے بعد امریکی صدر نے ترکی سے آنے والی ایلومینیم اور اسٹیل کی مصنوعات پر ٹیرف کو دُگنا کردیا تھا ،اس کے ردعمل میں ترکی نے بھی امریکی مصنوعات پر محصولات میں اضافہ کردیا تھا ۔

قبل ازیں ٹرمپ انتظامیہ نے پادری اینڈریو برونسن کی مشروط رہائی کے لیے انقرہ کی پیش کش کو مسترد کردیا تھا ۔ ترکی نے امریکا کو یہ پیش کش کی تھی کہ اگر وہ اس کے ایک بنک کے خلاف ایران سے تعاون کے الزام کی تحقیقات ختم کردے تو اس پادری اور دوسرے امریکی شہریوں کو رہا کیا جا سکتا ہے۔اس بنک نے مبینہ طور پر ایران پر عاید امریکی پابندیوں سے بچاؤ کے لیے مالی خدمات انجام دی تھیں۔اگر امریکا نے اس کو ایران کی مدد کے الزام میں قصور وار قرار دے دیا تو اس پر بھاری جرمانہ عاید کیا جاسکتا ہے۔

ترکی نے پادری برونسن کو دہشت گردی کے الزامات میں دوسال قبل گرفتار کیا تھا۔اس کو زیر حراست رکھنے پر ترکی اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات شدید بحران کا شکار ہو گئے تھے ۔امریکا کی ترکی کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کے نتیجے میں لیرہ گراوٹ کا شکار ہوگیا تھا اور اس کی ڈالر کے مقابلے میں قدرمیں حالیہ مہینوں کے دوران میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں