.

خالد صفوری: سعودی صحافی خاشقجی کے حوالے سے مغربی میڈیا میں اِفشا خبروں کا ذریعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قومی سلامتی اور دہشت گردی کے امور کے ماہر امریکی لکھاری پیٹرک پاول نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کو اس وقت علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کا سامنا ہے جو میڈیا کو گمراہ کرنے پر کام کر رہی ہیں۔

یہ طاقتیں میڈیا کو غلط معلومات فراہم کر رہی ہیں اسی طرح کی معلومات جن کو خالد صفوری سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے حوالے سے میڈیا تک پہنچانے میں مصروف ہے۔ صفوری سعودی لکھاری خاشقجی کی مقرّب شخصیات میں سے ہے۔

انگریزی ویب سائٹ "یاہو نیوز" کے چیف ایڈیٹر کی ٹوئیٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے میڈیا پر کڑی تنقید نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے لیے سعودی عرب کی حوصلہ افزائی کی۔ اس ٹوئیٹ نے پیٹرک پاول کو مجبور کر دیا کہ وہ PJ MEDIA کی ویب سائٹ پر اس موضوع کے پس منظر اور اس کے ذریعے کو زیر بحث لائیں۔

پاول کے مطابق اس ٹوئیٹ میں جس ذریعے پر انحصار کیا گیا ہے وہ خالد صفوری کا پروپیگنڈا ہے۔ پاول نے یاد دہانی کروائی ہے کہ خالد صفوری القاعدہ تنظیم کے ایک سپورٹر عبدالرحمن العمودی کے ساتھ انتہائی مضبوط تعلقات رکھتا ہے۔ العمودی اس وقت امریکی حکام کے پاس زیر حراست ہے۔ وہ مرحوم سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی ولی عہدی کے دور میں اُن کے قتل کی سازش کی منصوبہ بندی میں بھی ملوث ہے۔

پیٹرک پاول نے خاشقجی کے معاملے کو خطّے میں سعودی عرب اور دیگر قوتوں کے درمیان مسلسل جاری تنازع شمار کیا ہے۔ پاول نے میڈیا میں نامعلوم ذرائع کی جانب سے اِفشا انکشافات کے پیچھے کئی امریکی ذرائع ابلاغ کے انحراف پر شدید حیرت کا اظہار کیا۔

امریکی لکھاری نے تمام بحث سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ خاشقجی کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کا پیٹ بھرنے والا اکلوتا فریق ،،، یہ وہ ہی ذریعہ ہے جو سابق سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے قتل کی سازش کے ساتھ جُڑا ہوا تھا۔