.

‎حوثی ملیشیا طلبہ میں گمراہ کن ایرانی افکار کا زہر اُتار رہی ہے: یمنی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے خبردار کیا ہے کہ حوثی ملیشیا اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں تعلیمی نصاب کے اندر خطرناک حد تک کھلواڑ کر رہی ہے۔ اُن کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں شدّت پسندوں پر مشتمل ایک نسل سامنے آ سکتی ہے۔

الاریانی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے یمنی بچوں کے ذہنوں میں جو گمراہ کن اور منحرف ایرانی افکار اور نظریات ڈالے جا رہے ہیں وہ سماج کی شناخت اور ثقافت کے حوالے سے انتہائی خطرناک ہیں۔

یمنی وزیر کے مطابق صنعاء اور کئی دیگر صوبوں پر حوثی ملیشیا کا کنٹرول جاری رہنے اور تہران سے درآمد افکار اور نظریات کے مسلط کیے جانے کے نتیجے میں منحرف خمینی افکار کی حامل نسل جنم لے گی۔

یاد رہے کہ حوثیوں نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں دانستہ طور پر تعلیمی نصابوں کو تبدیل کر دیا۔ اس حوالے سے ایران نواز حوثی ملیشیا کے بانی کے متعلق مواد شامل کیا گیا۔ اسی طرح شیعہ طرز فکر کے کام آنے والا اضافہ اور ترمیم عمل میں لائی گئی۔ یہ وہ ہی طرز فکر ہے جس پر حوثی ملیشیا خود کاربند ہے۔ علاوہ ازیں اسکولوں میں صبح کے وقت قطار میں کھڑے طلبہ کو حوثیوں کی جماعت سے متعلق فرقہ وارانہ اور نسل پرستانہ نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

حوثی ملیشیا نے اپنی صفوں میں ہونے والے بھاری جانی نقصان کی تلافی کے لیے بچوں کی بھرتی کا سہارا لیا۔ اس سلسلے میں مارچ 2015ء کے بعد طلبہ کے لیے اشتعال انگیز مذہبی تقاریر اور اسکولوں کے میدانوں میں عسکری تربیت کے کورسز کے ذریعے 2419 بچوں کو دام میں پھانسا گیا۔