.

مصر کو انتہائی مطلوب دہشت گرد عشماوی نے لیبیا میں داعش اور القاعدہ کے ٹھکانے بتا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کو انتہائی مطلوب دہشت گرد ہشام عشماوی نے لیبیا میں اپنی گرفتاری کے بعد ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں داعش اور القاعدہ کے جنگجوؤں اور ان کے ٹھکانوں کا اتا پتا معلوم ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔

ہشام عشماوی نے تفتیش کے دوران میں لیبی حکام کو بتایا ہے کہ ابو البراء اللیبی کے زیر قیادت داعش کے قریباً پچاس جنگجو لیبیا کے وسطی علاقوں میں ہتھیار بند ہیں اور لیبیا کے مشرقی شہر درنہ کے قدیم علاقے میں 56 دہشت گرد گروپ زیر زمین علاقوں اور عمارتوں میں فعال ہیں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

عشماوی نے یہ بھی بتایا ہے کہ القاعدہ کے مفتی کے نام سے معروف جنگجو ابو حفص الموریتانی درنہ ہی میں موجود ہےجبکہ ایک اور دہشت گرد لیڈر عمر رفاعی سرور لیبی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں شدید زخمی ہوگیا تھا اور بعد میں دم توڑ گیا تھا۔اس کے علاوہ القاعدہ کا لیڈر سفیا ن بن قمو درنہ ہی میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا تھا۔اس حملے میں القاعدہ کے لیڈر المہاجر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ہشام عشماوی مصری سکیورٹی فورسز کا سابق افسر تھا ۔اس کو گذشتہ سوموار کے روز درنہ ہی میں لیبیا کے سابق جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے گرفتار کیا تھا۔مصری سکیورٹی حکام عشماوی ہی کو سخت گیر جنگجو گروپ انصار الاسلام اور ایک اور جنگجو گروپ المرابطون کا سربراہ قرار دیتے ہیں۔ان دونوں گروپوں کے شمالی اور مغربی افریقا میں القاعدہ کے نیٹ ورک سے روابط بتائے جاتے ہیں۔

اس کی گرفتاری کے تین روز بعد لیبیا کی قومی فوج نے درنہ میں ایک کارروائی میں اس کے محافظ اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مصری دہشت گرد صفوت زیدان کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔صفوت زیدان القاعدہ سے وابستہ گروپ کی درنہ میں کونسل کا سربراہ بتایا گیا ہے۔وہ لیبی اور مصری حکام کو دونوں ممالک میں تباہ کن حملوں کے الزامات میں مطلوب تھا۔وہ مصر سے 2013ء میں بھاگ کر لیبیا آگیا تھا اور اس نے درنہ میں ایک خفیہ کمین گاہ میں پناہ لے رکھی تھی۔

مصری حکومت نے لیبیا سے ہشام عشماوی کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔عشماوی کو مصر کی ایک عدالت نے ملک میں بم حملوں کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔اس پر 2014ء میں لیبیا کی سرحد کے نزدیک مصری فورسز پر ایک حملے میں ملوث ہونے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔اس حملے میں مصر کے سرحدی محافظ بائیس فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔