.

وزیر دفاع جیمز میٹس عہدہ چھوڑ سکتے ہیں : صدر ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے وزیر دفاع جیمز میٹس اپنا عہدہ چھوڑ سکتے ہیں ۔انھوں نے اتوار کو نشر ہونے والے سی بی ایس کے پروگرام ’60 منٹ‘ میں گفتگو کرتے جیمز میٹس کو ’’ ایک قسم کا ڈیمو کریٹ ‘ قرار دیا ہے۔

جیمز میٹس امریکی میرینز کے سابق چار ستارہ جنرل ہیں۔انھیں صدر ٹرمپ کی کابینہ میں ایک آزاد رکن سمجھاجاتا ہے۔امریکی صدر سے انٹرویو کے دوران میں یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں جیمز میٹس عہدہ چھوڑ دیں ۔

اس کے جواب میں انھوں نے کہا:’’یہ ہوسکتا ہے کہ وہ یہ کریں۔ اگر آپ سچ جاننا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں وہ ایک قسم کے ڈیموکریٹ ہیں لیکن جنرل میٹس ایک اچھے شخص ہیں ۔وہ عہدہ چھوڑ سکتے ہیں ،میرا مطلب ہے کہ وہ کسی مرحلے پر ایسا کرسکتے ہیں اور ایک وقت میں تو سب نے جانا ہے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے دو روز قبل ہی جیمز میٹس کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا تھا لیکن انھوں نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ وزیر دفاع کی حیثیت سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے جیمز میٹس کے بارے میں یہ گفتگو اپنی کابینہ میں متوقع رد وبدل پر غور کے بعد کی ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نِکّی ہیلی نے گذشتہ ہفتے اچانک اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا۔اب ان کی جگہ وہ اپنے کسی اور مصاحب کو اس عہدے پر فائز کریں گے۔

انھوں نے کہا :’’ میں چیزوں کو تبدیل کررہا ہوں اور میں ایسا کرنے کا مجاز ہوں۔میرے پاس قطار میں کھڑے لوگ موجود ہیں ۔ وہ اب انتظامیہ میں شامل کیے جائیں گے۔یہ غیر معمولی لوگ ہوں گے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ میرے خیال میں ہمارے پاس ایک عظیم کابینہ ہے ۔البتہ بعض لوگ ایسے ہیں جن سے میں خوش نہیں ہوں اور میرے پاس ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن سے میں خوش ہوں ‘‘۔