آسٹریلیا بھی القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکوٹ موریسن نے آج منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے لیے کھلے پن کا مظاہرہ کر کرے گا۔ ان کا اشارہ یروشلم کو صہیونی ریاست کے دارالحکومت کے طورپر تسلیم کرنے کی طرف تھا۔ آسٹریلوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے کی حمایت پر نظرثانی بھی کرے گا۔

Advertisement

قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھونے انکشاف کیاتھا کہ آسٹریلیا القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ القدس فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اسرائیل پورے بیت المقدس کو اپنا ابدی دارالحکومت قرار دیتا ہے۔ اس شہر پرصہیونی فوج نے 1967ء کی جنگ میں تسلط قائم کیا تھا۔

چھ دسمبر 2017ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا جس پرفلسطینی قوم، عرب ممالک، عالم اسلام اور امریکا کے اتحادیوں نے سخت غم وغصے کا اظہار کیا تھا۔

نیتن یاھو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے آسٹریلوی ہم منصب سے ٹیلیفون پربات چیت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا امریکا کی پیروی کرتے ہوئے القدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں