ایرانی عوام کے قانونی مطالبات کی تائید کرتے ہیں : واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوورٹ کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک ایران میں ہڑتالوں سے متعلق رپورٹوں کا جائزہ لے رہا ہے۔

ترجمان نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ "ہم قانونی مطالبات کو پر امن طریقے سے پیش کرنے کے حوالے سے ایرانی عوام کے حق کی تائید کرتے ہیں"۔

نوورٹ کے مطابق یہ ہڑتالیں حکمراں نظام کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ "ایران کی دولت کو بیرون ملک برباد کرنے کا سلسلہ روک دو اور اپنے عوام کی ضروریات پوری کرنا شروع کرو"۔

پیر کے روز ایران سے آنے والی رپورٹیں اور تصاویر شہروں کی ایک بڑی تعداد میں اساتذہ کی مسلسل دوسرے روز ہڑتال جاری رہنے کا پتہ دے رہی ہیں۔ ان شہروں میں دارالحکومت تہران، اصفہان، شیراز اور اہواز شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر پھیلی تصاویر کے مطابق کرج، سنندج، کرمانشاہ، قشم، اصفہان، بابل اور تہران میں اساتذہ دوسرے روز بھی کلاسوں میں نہیں گئے اور وہ پرنسپل کے دفتر یا آرام کے کمرے میں بیٹھے رہے۔

ایران کے مختلف شہروں میں اساتذہ کی ہڑتال کا آغاز اتوار کے روز ہوا تھا۔ اساتذہ انجمنوں کی رابطہ کار کمیٹی نے اس ہڑتال کی کال مہنگائی، افراطِ زر، اساتذہ کی قوت خرید میں کمی اور تعلیمی انجمنوں کے سرگرم کارکنان کی گرفتاری کے خلاف احتجاجا دی تھی۔

ادھر ایرانی سکیورٹی فورسز نے شمالی خراسان میں اساتذہ انجمن کے سربراہ محمد رضا رمضان زادہ کو گرفتار کر لیا۔

ہڑتال میں شامل اساتذہ نے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا "اسکولوں کی نج کاری"، "معاشی حالات کی ابتری" اور "تعلیمی انجموں کے کارکنان کی مسلسل گرفتاریوں" پر احتجاج ..

بعض رپورٹوں کے مطابق ایرانی سکیورٹی حکام نے اسکولوں کے پرنسپلز کو خبردار کیا ہے کہ وہ اساتذہ کی ہڑتال کی تصاویر پوسٹ نہ کریں۔

اس سے قبل ایران میں ٹرک ڈرائیوروں کی جانب سے بھی ملک گیر ہڑتال کی گئی تھی جس کے دوران 200 سے زیادہ افراد گرفتار کیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں