شام میں ایران کے داعش کے ٹھکانوں پرقریباً 700 ڈرون حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سپاہ ِ پاسداران انقلاب ایران نے شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ٹھکانوں پر سات سو ڈرون حملوں کا اعتراف کیا ہے ۔

پاسداران انقلاب کے فضائی شعبے کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ نے منگل کے روز خبررساں ایجنسی فارس کو بتایا ہے کہ ’’ہمارے بمبار ڈرونز نے اسمارٹ بموں کے ذریعے داعش کے خلاف سات سو فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ان میں ٹینکوں ، بکتر بند گاڑیوں ، خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی کاروں اور 23 ملی میٹر کی توپوں کو نشانہ بنایا ہے اور ان حملوں سے ہم نے جنگ کا رُخ پھیر دیا ہے‘‘۔

پاسداران انقلاب نے شام میں یکم اکتوبر کو داعش کے خلاف حملے کے لیے فوجی ڈرون کو استعمال کیا تھا۔یہ حملہ ایران کے شہر اہواز میں ایک فوجی پریڈ پر مسلح افراد کی فائرنگ کے جواب میں کیا گیا تھا۔فائرنگ سے پاسداران انقلاب کے 12 اہلکاروں سمیت 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے تب اطلاع دی تھی کہ شام کے مشرقی قصبے حاجن میں سات فوجی ڈرونز اور چھے بیلسٹک میزائلوں سے داعش کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔یہ قصبہ شام کے عراق کی سرحد کے ساتھ واقع شہر البوکمال سے 24 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری کا کہنا تھا کہ ڈرونز نے پہلی مرتبہ کئی ممالک سے گزر کر اپنے ہدف کو نشانہ بنایا ہے۔ایرانی خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ ایران نے اپنی سرحدوں سے باہر لڑاکا ڈرون کو استعمال کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

ایران شامی صدر بشارالاسد کا روس کے بعد دوسرا بڑا پشتیبان ملک ہے اور اس کی مالی ، اسلحی اور فوجی مدد کی بدولت ہی شامی فوج ملک کے بیشتر علاقوں میں داعش اور دوسرے مسلح گروپوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی ہے ۔پاسداران انقلاب کا ایک بڑا دستہ اس وقت فوجی مشیروں کے روپ میں شام میں موجود ہے اور وہ اسدی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑرہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں