.

بھارتی وزیر ایم جے اکبر اپنے خلاف جنسی ہراسیت کے سنگین الزامات کے بعد مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے مرکزی وزیر اور سینیر صحافی ایم جے اکبر اپنے خلاف جنسی ہراسیت کے الزامات کے بعد عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں ۔ان کے خلاف کم سے کم بیس عورتوں نے جنسی ہراسیت کے سنگین الزامات عاید کیے ہیں۔

ایم جے اکبر بھارت کے سینیر اور تجربے کار صحافی ہیں اور وہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت میں جونیئر وزیر کے عہدے پر فائز تھے ۔انھوں نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو جھوٹ قرار دے کر ان کی تردید کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’میں ذاتی حیثیت میں قانون کی عدالت سے انصاف کے حصول کا خواہاں ہوں،اس لیے میں اپنے منصب کو چھوڑنا مناسب سمجھتا ہوں تاکہ میں ا پنے خلاف جھوٹے الزامات کو چیلنج کرسکوں‘‘۔

بھارت میں ’’می ٹو تحریک‘‘ کے زور پکڑنے کے بعد مختلف نمایاں شخصیات کے خلاف متاثرہ عورتوں نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے سنگین الزامات عاید کیے ہیں۔ گذشتہ ہفتے صحافیہ پریا رمانی نے 1990ء کے عشرے میں ایم جے اکبر کے خلاف خود کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ان سے فون پر مخرب الاخلاق گفتگو کیا کرتے تھے اور نامناسب جملے چُست کیا کرتے تھے۔انھوں نے ایک ٹویٹر میں ایم جے اکبر کے استعفے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ میں اب عدالت سے انصاف کی منتظر ہوں ۔

ایم جے اکبر نے قبل ازیں پریا کے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا اور ان کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس دوران میں بیس اور عورتیں بھی منظرعام پر آگئیں اور انھوں نے بھی مستعفی وزیر کے خلاف جنسی ہراسیت کے الزامات عاید کیے ہیں۔

ایک اور صحافیہ غزالہ وہاب نے ان پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ ’’وہ 1997ء میں جب ایشین ایج میں جونیئر رپورٹر کے طور پر کام کرتی تھیں تو ایم جے اکبر ایک مرتبہ انھیں ایک کونے میں لے گئے تھے اور ان سےبغل گیر ہوگئے تھے اور جسم کے نازک اعضاء پر ہاتھ پھیرنا شروع ہوگئے تھے‘‘۔

انھوں نے ایک خبری ویب گاہ ’دا وائر‘ میں اپنے ساتھ پیش آئے اخلاق باختگی کے واقعے کی تفصیل لکھی ہے۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ وہ ایم جے اکبر سے خود کو چھڑوا کر بھاگ کھڑی ہوئی تھیں اور ایک بیت الخلاء میں جا کر رونا شروع ہوگئی تھیں۔غزالہ وہاب اب بھارت کے فورس میگزین کی ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔مستعفی وزیر کے خلاف ایک تیسری صحافیہ توشتیا پاٹیل نے زبردستی بوس وکنار کرنے کے الزامات عاید کیے ہیں۔یہ واقعہ 1992ء میں پیش آیا تھا۔

بھارت میں جنسی ہراسیت کا نشانہ بننے والی متعدد اداکاراؤں نے بھی اپنے ساتھی اداکاروں اور پروڈیوسروں پر سنگین الزامات عاید کیے ہیں۔اداکارہ تانوشری دتہ نے حال ہی میں بالی وڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر پر دس سال قبل ایک فلم سیٹ پر نامناسب طرزعمل کا مظاہرہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔پاٹیکر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔